السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما يقع وما لا يقع على امرأته من طلاقه باب: اس بیان میں کہ شوہر کی دی گئی طلاق میں سے عورت پر کیا واقع ہوتا ہے اور کیا واقع نہیں ہوتا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو عُتْبَةَ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ رَمَضَانَ سِتَّةُ أَشْهُرٍ فَنَدِمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " يُطَلِّقُ وَاحِدَةً فَتَقْضِي عِدَّتَهَا قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ رَمَضَانُ فَإِذَا مَضَى خَطَبَهَا إِنْ شَاءَ " وَرُوِّينَا عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِيمَنْ قَالَ لِامْرَأَتِهِ: إِنْ كَلَّمَ أَخَاهُ فَامْرَأَتُهُ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا فَإِذَا بَانَتْ كَلَّمَ أَخَاهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا بَعْدُ إِنْ شَاءَ.سیدنا مقسم رحمہ اللہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی سے کہا: جب رمضان آ گیا تو تجھے تین طلاقیں، اور رمضان کی آمد میں ابھی چھ ماہ باقی تھے، وہ پریشان ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ اپنی بیوی کو رمضان آنے سے پہلے ایک طلاق دے دے اور اس کی عدت گزر جائے اور رمضان گزر جانے کے بعد اگر چاہے تو نکاح کر لے
(ب) حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنی عورت سے کہا: اگر اس نے اپنے بھائی سے بات کی تو اس کو تین طلاقیں، اگر وہ چاہے تو اپنی بیوی کو ایک طلاق دے کر چھوڑ دے حتیٰ کہ اس کی عدت گزر جائے اور جب بھائی سے بات کر لینا واضح ہو جائے تو اس کے بعد چاہے تو اپنی بیوی سے نکاح کر لے۔