السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق قبل النكاح باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14879
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، وَيَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَأَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَالْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، قَالُوا: نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ نا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، نا صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الدِّمَشْقِيُّ قَالَ: جِئْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ وَأَنَا مُغْضَبٌ، فَقُلْتُ: آللَّهِ أَنْتَ أَحْلَلْتَ لِلْوَلِيدِ بْنِ يَزِيدَ أُمَّ سَلَمَةَ؟ قَالَ: أَنَا، وَلَكِنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا طَلَاقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ وَلَا عِتْقَ لِمَنْ لَا يَمْلِكُ " وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.حافظ ثناء اللہ
صدقہ بن عبداللہ دمشقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محمد بن منکدر رحمہ اللہ کے پاس غصے کی حالت میں آیا، میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ نے ولید بن یزید کے لیے ام سلمہ کو حلال قرار دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ نے۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو آپ کی بیوی نہیں اس کو طلاق نہیں دی جا سکتی اور جس غلام کے آپ مالک نہیں ہیں اس کو آزاد نہیں کر سکتے۔“