السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق قبل النكاح باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: كَتَبَ الْوَلِيدُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ أَنْ يَكْتُبُوا، إِلَيْهِ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ النِّكَاحِ وَكَانَ قَدِ ابْتُلِيَ بِذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَا ابْنَ طَاوُسٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ شَرُوسٍ وَسِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَهُمُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ شَرُوسٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَسِمَاكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُمْ قَالُوا: " لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ " قَالَ: ثُمَّ قَالَ سِمَاكٌ مِنْ عِنْدِهِ: إِنَّمَا النِّكَاحُ عُقْدَةٌ تُعْقَدُ، وَالطَّلَاقُ يَحُلُّهَا وَكَيْفَ تُحَلُّ عُقْدَةٌ قَبْلَ أَنْ تُعْقَدُ؟ فَأُعْجِبَ الْوَلِيدُ مِنْ قَوْلِهِ وَأَخَذَ بِهِ وَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ أَنْ يَسْتَعْمِلَهُ عَلَى الْقَضَاءِ.حضرت معمر فرماتے ہیں کہ ولید بن یزید نے شہروں کے امراء کو لکھا کہ وہ نکاح سے پہلے طلاق کے بارے میں لکھیں، جس مسئلے میں ان کی آزمائش کی گئی، تو اس نے اپنے یمن کے عامل کو لکھا۔ اس نے ابن طاؤس، اسماعیل بن شروس اور سماک بن فضل کو بلایا تو ابن طاؤس نے اپنے والد سے اور اسماعیل بن شروس نے عطاء بن ابی رباح سے اور سماک نے وہب بن منبہ سے بیان کیا کہ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔ پھر سماک نے اپنی جانب سے بیان کیا کہ نکاح ایک گرہ ہوتی ہے اور طلاق اس گرہ کو کھولتی ہے تو گرہ لگانے سے پہلے اس کو کیسے کھولا جائے گا؟ تو ولید کو سماک کا قول پسند آیا۔ اسی قول کو انہوں نے قبول کیا اور اپنے یمن کے عامل کو لکھا کہ ان کو قاضی کے عہدے پر فائز کر دیں۔