کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: بوقتِ ضرورت عورت کو دیکھنے کے جواز میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے خاص ہونے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا} [النور: ٣١] قَالَ: " الْكُحْلُ وَالْخَاتَمُ " وَقَدْ رَوَيْنَاهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ⦗١٣٨⦘ وَرُوِيَ ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت ﴿وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا﴾ [سورة النور: 31] کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد سرمہ اور انگوٹھی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا رَوْحٌ، ثنا حَمَّادٌ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ شَبِيبٍ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الزِّينَةِ الظَّاهِرَةِ فَقَالَتْ: " الْقُلْبُ وَالْفُتْخَةُ وَضَمَّتْ طَرَفَ كُمِّهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ام شبیب رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ﴿ظاہری زینت﴾ [سورة النور: 31] سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا: کنگن اور چھلا اور اپنی دونوں آستینوں کو ہلایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِيَابٍ شَامِيَّةٍ رِقَاقٍ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَرْضِ بِبَصَرِهِ قَالَ: " مَا هَذَا يَا أَسْمَاءُ إِنَّ " الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ يَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا " وَأَشَارَ إِلَى كَفِّهِ وَوَجْهِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی ﷺ تھے، ان پر شامی باریک کپڑے تھے، آپ ﷺ نے اپنی نگاہ زمین کی طرف جھکا لی اور فرمایا: ”اے اسماء! یہ کیا ہے؟ جب عورت جوان ہو جائے تو اس کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ اس کی فلاں فلاں جگہ کے علاوہ نظر آئے۔“ آپ ﷺ نے چہرے اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيَّ، يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ، أَظُنُّهُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَعِنْدَهَا أُخْتُهَا أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ، وَعَلَيْهَا ثِيَابٌ شَامِيَّةٌ وَاسِعَةُ الْأَكْمَامِ، فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَرَجَ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا تَنَحَّيْ فَقَدْ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا كَرِهَهُ، فَتَنَحَّتْ فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَتْهُ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لِمَ قَامَ؟ قَالَ: " أَوَلَمْ تَرَيْ إِلَى هَيْئَتِهَا إِنَّهُ لَيْسَ لِلْمَرْأَةِ الْمُسْلِمَةِ أَنْ يَبْدُوَ مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا " وَأَخَذَ بِكَفَّيْهِ، فَغَطَّى بِهِمَا ظَهْرَ كَفَّيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ مِنْ كَفِّهِ إِلَّا أَصَابِعُهُ، ثُمَّ نَصَبَ كَفَّيْهِ عَلَى صُدْغَيْهِ حَتَّى لَمْ يَبْدُ إِلَّا وَجْهُهُ "، إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور ان کے پاس ان کی بہن اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان پر شامی کپڑے تھے، جن کی آستینیں بہت وسیع تھیں۔ جب آپ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا تو کھڑے ہوگئے اور باہر نکل گئے۔ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا: ”ہٹ جاؤ، رسول اللہ ﷺ نے ایسا کام دیکھا ہے جسے آپ ﷺ نے ناپسند کیا ہے۔“ وہ ہٹ گئیں۔ پھر آپ ﷺ داخل ہوئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: آپ کیوں چلے گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کی حالت نہیں دیکھی؟ کسی مسلمان عورت کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ اس کا کوئی حصہ ظاہر ہو علاوہ اس کے۔“ آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلی کو پکڑا، اس کے ظاہری حصے کو ڈھانپ دیا، یہاں تک کہ ہتھیلی ظاہر نہ ہوئی علاوہ انگلیوں کے، پھر اپنی ہتھیلیوں کو اپنی کنپٹیوں پر رکھا یہاں تک کہ صرف آپ ﷺ کا چہرہ ظاہر رہا۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
اس کی سند ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَتْنِي غِبْطَةُ بِنْتُ عَمْرٍو الْمُجَاشِعِيَّةُ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي أُمُّ الْحَسَنِ، عَنْ ⦗١٣٩⦘ جَدَّتِهَا، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ قَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللهِ بَايِعْنِي قَالَ: " لَا أُبَايِعُكِ حَتَّى تُغَيِّرِي كَفَّيْكِ، كَأَنَّهَا كَفَّا سَبُعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ کہتی ہیں: اے اللہ کے نبی! مجھ سے بیعت کر لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں اس وقت تک تجھ سے بیعت نہیں کروں گا جب تک تو اپنی ہتھیلیوں کو تبدیل نہیں کرتی، یہ تو کسی درندے کی ہتھیلیاں ہیں۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَرَاءَ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ: " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ " قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ قَالَ: " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظَافِرَكِ بِالْحِنَّاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت پردے کے پیچھے خط لے کر نبی ﷺ کے پاس آئی۔ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا۔“ وہ کہتی ہیں: نہیں بلکہ عورت کا ہاتھ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورت ہے تو اپنے ناخنوں کو مہندی کے ساتھ رنگ کر رکھو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَعِيدٍ، بِإِسْنَادٍ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔