السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: تخصيص الوجه والكفين بجواز النظر إليها عند الحاجة باب: بوقتِ ضرورت عورت کو دیکھنے کے جواز میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے خاص ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13499
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا طَالُوتُ بْنُ عَبَّادٍ، ثنا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَرَاءَ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَقَالَ: " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَمْ يَدُ امْرَأَةٍ " قَالَتْ: بَلْ يَدُ امْرَأَةٍ قَالَ: " لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً لَغَيَّرْتِ أَظَافِرَكِ بِالْحِنَّاءِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت پردے کے پیچھے خط لے کر نبی ﷺ کے پاس آئی۔ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ یہ عورت کا ہاتھ ہے یا مرد کا۔“ وہ کہتی ہیں: نہیں بلکہ عورت کا ہاتھ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر عورت ہے تو اپنے ناخنوں کو مہندی کے ساتھ رنگ کر رکھو۔“