❮
❯
حدیث نمبر: 13496
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي قِمَاشٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ دُرَيْكٍ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَخَلَتْ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثِيَابٍ شَامِيَّةٍ رِقَاقٍ، فَضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَرْضِ بِبَصَرِهِ قَالَ: " مَا هَذَا يَا أَسْمَاءُ إِنَّ " الْمَرْأَةَ إِذَا بَلَغَتِ الْمَحِيضَ لَمْ يَصْلُحْ أَنْ يُرَى مِنْهَا إِلَّا هَذَا وَهَذَا " وَأَشَارَ إِلَى كَفِّهِ وَوَجْهِهِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا داخل ہوئیں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس نبی ﷺ تھے، ان پر شامی باریک کپڑے تھے، آپ ﷺ نے اپنی نگاہ زمین کی طرف جھکا لی اور فرمایا: ”اے اسماء! یہ کیا ہے؟ جب عورت جوان ہو جائے تو اس کے لیے یہ ٹھیک نہیں ہے کہ اس کی فلاں فلاں جگہ کے علاوہ نظر آئے۔“ آپ ﷺ نے چہرے اور ہاتھوں کی ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13496
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»