کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: آدمی کا اس عورت کو دیکھنے کا بیان جس سے وہ نکاح کا ارادہ رکھتا ہو
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " فَاذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی آیا، اس نے کہا کہ میں نے انصاری عورت سے شادی کرنی ہے، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تم نے اس کو دیکھا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھو، کیونکہ انصاری عورتوں کی آنکھوں میں کوئی چیز ہوتی ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ، فَقَدِرَ عَلَى أَنْ يَرَى مِنْهَا مَا يُعْجِبُهُ وَيَدْعُوهُ إِلَيْهَا، فَلْيَفْعَلْ " قَالَ جَابِرٌ: فَلَقَدْ خَطَبْتُ امْرَأَةً مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَكُنْتُ أَتَخَبَّأُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا أَعْجَبَنِي، فَتَزَوَّجْتُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی منگنی کرے اور وہ قدرت رکھتا ہو کہ اس کو دیکھے جو اس کو خوش کر دے تو وہ اس کو بلائے اپنی طرف اور یہ کام کرے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک عورت کو پیغام نکاح بھیجا، میں نخلستان میں چھپ گیا، پھر میں نے اسے دیکھا جو مجھے اچھی لگی، پھر میں نے اس سے نکاح کر لیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا ⦗١٣٦⦘ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أَرَادَ الْمُغِيرَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کا ارادہ کیا، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھ کر آؤ، یہ بات زیادہ لائق ہے کہ تمہارے درمیان محبت زیادہ ہو۔“ فرماتے ہیں: میں نے اسے دیکھا، پھر اس سے موافقت کا ذکر کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ: " فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
ایضاً
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيِّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَذَكَرْتُهَا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ لِي: " هَلْ نَظَرْتَ إِلَيْهَا؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ: " فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا " فَأَتَيْتُهَا وَعِنْدَهَا أَبَوَاهَا، وَهِيَ فِي خِدْرِهَا قَالَ: فَقُلْتُ إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا قَالَ: فَسَكَتَا قَالَ: فَرَفَعَتِ الْجَارِيَةُ جَانِبَ الْخِدْرِ، فَقَالَتْ: أُحَرِّجُ عَلَيْكَ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلِيَّ لَمَا نَظَرْتَ، وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْكَ أَنْ تَنْظُرَ إِلِيَّ، فَلَا تَنْظُرْ قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، ثُمَّ تَزَوَّجْتُهَا قَالَ: فَمَا وَقَعَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ بِمَنْزِلَتِهَا، وَلَقَدْ تَزَوَّجْتُ سَبْعِينَ أَوْ بِضْعًا وَسَبْعِينَ امْرَأَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شادی کا پیغام ایک عورت کی طرف بھیجا اور اس بات کا ذکر نبی ﷺ کے پاس کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اس کو دیکھا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جاؤ اس کو دیکھو، یہ زیادہ لائق ہے تمہارے درمیان محبت کے لیے۔“ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے پاس گیا تو اس کے والدین موجود تھے اور وہ اپنی چادر میں چھپی ہوئی تھی، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے کہ تمہیں دیکھوں، وہ دونوں خاموش ہو گئے، تب لڑکی نے اپنی چادر کو ایک طرف سے اٹھایا اور کہا: میں تجھے قسم دیتی ہوں، اگر رسول اللہ ﷺ نے تجھے مجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لو، اور اگر رسول اللہ ﷺ نے تجھے مجھے دیکھنے کا حکم نہیں دیا تو مت دیکھو۔ تو میں نے اسے دیکھا، پھر میں نے اس عورت سے شادی کی، کوئی بھی عورت اس کے مرتبے کو میرے پاس نہیں پہنچی، میں نے ستر یا اس سے زائد عورتوں سے شادی کی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا أَبُو يُوسُفَ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ عَمِّهِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ عَلَى إِجَّارٍ يُقَالُ لَهَا ثُبَيْتَةُ بِنْتُ الضَّحَّاكِ أُخْتُ أَبِي جَبِيرَةَ، فَقُلْتُ: أَتَفْعَلُ هَذَا وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَلْقَى اللهُ فِي قَلْبِ رَجُلٍ خِطْبَةَ امْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا "، هَذَا الْحَدِيثُ إِسْنَادُهُ مُخْتَلَفٌ فِيهِ وَمَدَارُهُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَفِيمَا مَضَى كِفَايَةٌ، وَاحْتَجَّ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ بِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ایک چھت پر ایک عورت کا نظروں سے پیچھا کر رہے تھے جس کا نام ثبیتہ بنت ضحاک تھا، جو ابو جبیرہ کی بہن تھی، تو میں نے کہا: آپ رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہو کر یہ کام کرتے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہاں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ کسی مرد کے دل میں کسی عورت سے شادی کا ارادہ ڈالے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔“
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے اور اس کا دارومدار حجاج بن ارطاۃ پر ہے، اور جو پہلے گزر چکا وہ کافی ہے۔
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے اور اس کا دارومدار حجاج بن ارطاۃ پر ہے، اور جو پہلے گزر چکا وہ کافی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ الْعَتَكِيُّ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُرِيتُكِ فِي النَّوْمِ ثَلَاثَ لَيَالٍ جَاءَنِي بِكِ الْمَلَكُ فِي سَرَقَةٍ مِنْ حَرِيرٍ، يَقُولُ: هَذِهِ امْرَأَتُكَ، فَأَكْشِفُ عَنْ وَجْهِكِ، فَإِذَا هِيَ أَنْتِ، فَأَقُولُ: إِنْ يَكُنْ هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ يُمْضِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الْعَتَكِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھے نیند میں تین راتیں دکھائی گئیں، میرے پاس فرشتہ ریشمی کپڑے میں لے کر آتا اور کہتا: یہ آپ کی بیوی ہے، میں تمہارے چہرے کو دیکھتا تو وہ تم ہی ہوتی تھیں، تو میں کہتا: اگر یہ اللہ کی طرف سے ہے تو ہو کر رہے گا۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ " امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ جِئْتُ لِأَهَبَ لَكَ نَفْسِي، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا جَلَسَتْ "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کیا ہے، تو اس کی طرف آپ ﷺ نے نگاہ اٹھا کر دیکھا اور اپنی نگاہ نیچی کی۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ عورت بیٹھ گئی۔