السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب الترغيب في النكاح وغير ذلك -- باب: الرغبة في النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: نکاح کی رغبت دلانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللهِ وَعِنْدَهُ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ، فَحَدَّثَ بِحَدِيثٍ لَا أَرَاهُ حَدَّثَ بِهِ إِلَّا مِنْ أَجْلِي، كُنْتُ أَحْدَثَ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَابًا لَا نَجِدُ شَيْئًا، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ "، ⦗١٢٣⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، ان کے پاس علقمہ اور اسود بھی تھے، تو انہوں نے ایک حدیث بیان کی، میرا خیال ہے کہ انہوں نے وہ صرف میری وجہ سے بیان کی، کیونکہ میں لوگوں میں سب سے کم عمر تھا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نوجوان تھے، ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! تم میں سے جو شادی کی طاقت رکھتا ہو وہ شادی کرے، کیونکہ یہ نظر کو زیادہ نیچا رکھنے والی اور شرم گاہ کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہے، اور تم میں سے جو شادی کی طاقت نہ رکھے وہ روزے رکھے، کیونکہ روزہ اس کے لیے ڈھال ہے۔“