السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب الترغيب في النكاح وغير ذلك -- باب: الرغبة في النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: نکاح کی رغبت دلانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَقِيَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَلَا نُزَوِّجُكَ جَارِيَةً شَابَّةً لَعَلَّهَا تُذَكِّرُكَ بَعْضَ مَا مَضَى مِنْ زَمَانِكَ؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: أَمَا لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا کہ منیٰ میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ان سے ملے اور ان سے باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں، شاید وہ آپ کو آپ کے گزرے ہوئے زمانے کی کچھ باتیں یاد دلا دے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ یہ کہتے ہیں تو ہم کو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اے نوجوانوں کی جماعت! جو کوئی تم میں شادی کی طاقت رکھتا ہے وہ شادی کرے، بیشک یہ نظروں کو نیچا کرنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کا ذریعہ ہے، اور جو کوئی شادی کی طاقت نہیں رکھتا وہ روزے رکھے، بیشک روزے اس کے لیے ڈھال ہیں۔“