السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
جماع أبواب الترغيب في النكاح وغير ذلك -- باب: الرغبة في النكاح باب: نکاح کی ترغیب اور اس کے علاوہ دیگر امور کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: نکاح کی رغبت دلانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ ثَلَاثَةُ رَهْطٍ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَ عَنْ عِبَادَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أُخْبِرُوا بِهَا كَأَنَّهُمْ تَقَالُّوهَا، فَقَالُوا: وَأَيْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ غَفَرَ اللهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَمَّا أَنَا فَأُصَلِّي اللَّيْلَ أَبَدًا، وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّي أَصُومُ الدَّهْرَ، فَلَا أُفْطِرُ وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا أَعْتَزِلُ النِّسَاءَ وَلَا أَتَزَوَّجُ أَبَدًا، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " أَنْتُمُ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا، أَمَا إِنِّي لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَتْقَاكُمْ لَهُ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي، وَأَرْقُدُ، وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ، فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي، فَلَيْسَ مِنِّي ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین آدمی نبی ﷺ کی بیویوں کے پاس آئے اور وہ آپ ﷺ کی عبادت کے بارے میں سوال کرنے لگے، جب ان کو عبادت کے بارے میں بتایا گیا تو گویا انہوں نے اسے کم سمجھا اور انہوں نے کہا کہ ہم نبی ﷺ کے مقابلے میں کہاں؟ حالانکہ آپ ﷺ کے اگلے پچھلے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں تو ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا، دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا اور کبھی نہیں چھوڑوں گا اور تیسرے نے کہا کہ میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی شادی نہیں کروں گا، نبی ﷺ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے ایسے ایسے کہا ہے؟ سن لو! میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور سب سے زیادہ متقی ہوں، لیکن میں روزے بھی رکھتا ہوں اور چھوڑتا بھی ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، تو جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی وہ مجھ سے نہیں ہے۔“