کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ⦗٨٢⦘ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ يَسْكُنُ دِمَشْقَ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمَلَكَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اقْرَأْ قَالَ: فَقُلْتُ: " مَا أَنَا بِقَارِئٍ "، ثُمَّ عَادَ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: اقْرَأْ، فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِقَارِئٍ، فَعَادَ إِلَى مِثْلِ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرْسَلَنِي، فَقَالَ: {اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ} [العلق: ٢] قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ: فَرَجَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَسَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَرْجُفُ فُؤَادُهُ، فَقَالَ: " زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي " فَزُمِّلَ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ لِخَدِيجَةَ: " لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي " قَالَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَبْشِرْ، فَوَاللهِ لَا يُخْزِيكَ اللهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَصِلُ الرَّحِمَ، انْطَلِقْ بِنَا، فَانْطَلَقَتْ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ، فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَيِ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنِ ابْنِ أَخِيكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ بْنُ نَوْفَلٍ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أَنْزَلَهُ اللهُ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ؟ " قَالَ: نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ، وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ".
حافظ ثناء اللہ
ایک فرشتہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”پڑھ“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے پھر کہا: ”پڑھیے“، میں نے کہا: ”میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ اس نے پھر اس بات کو لوٹایا، پھر اس نے کہا: ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ [سورة العلق: 1-2] ”پڑھیے، اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔“
محمد بن نعمان کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ یہ (آیات) لے کر واپس لوٹے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر کو کہتے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹے اور آپ ﷺ کا دل کانپ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ تو آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی گئی، جب آپ ﷺ سے (خوف کی) کیفیت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے اپنی جان کا خوف ہو گیا تھا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوش ہو جائیے، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ سچ بولتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ہمارے ساتھ چلیے۔ چنانچہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، وہ عیسائی ہو چکے تھے، بوڑھے نابینا تھے اور انجیل عربی میں پڑھتے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا زاد! اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ نے آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا انہیں بتا دیا، تو ورقہ بن نوفل نے کہا: یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا، کاش! میں اس وقت (زندہ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، جو شخص بھی آپ جیسا پیغام لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر آپ کا وہ دن مجھے مل گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔
محمد بن نعمان کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ یہ (آیات) لے کر واپس لوٹے۔ ابن شہاب کہتے ہیں: میں نے عروہ بن زبیر کو کہتے سنا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی ﷺ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس لوٹے اور آپ ﷺ کا دل کانپ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ تو آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی گئی، جب آپ ﷺ سے (خوف کی) کیفیت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”مجھے اپنی جان کا خوف ہو گیا تھا۔“ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: خوش ہو جائیے، اللہ کی قسم! اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ سچ بولتے ہیں اور صلہ رحمی کرتے ہیں، ہمارے ساتھ چلیے۔ چنانچہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ورقہ بن نوفل کے پاس گئیں، وہ عیسائی ہو چکے تھے، بوڑھے نابینا تھے اور انجیل عربی میں پڑھتے تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: اے میرے چچا زاد! اپنے بھتیجے کی بات سنیے۔ ورقہ نے آپ ﷺ سے کہا: آپ کیا دیکھتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا تھا انہیں بتا دیا، تو ورقہ بن نوفل نے کہا: یہ وہی ناموس (فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کیا تھا، کاش! میں اس وقت (زندہ) ہوں جب آپ کی قوم آپ کو نکال دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا وہ مجھے نکال دیں گے؟“ انہوں نے کہا: ہاں، جو شخص بھی آپ جیسا پیغام لے کر آیا اس سے دشمنی کی گئی، اور اگر آپ کا وہ دن مجھے مل گیا تو میں آپ کی بھرپور مدد کروں گا۔
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي كَانَ يَجِيئُنِي قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ فَزِعًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ زَمِّلُونِي " فَزَمَّلُوهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] " قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ قَالَ: " ثُمَّ جَاءَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا دُونَ كَلَامِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی۔ ایک دفعہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو میرے پاس آیا کرتا تھا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور آسمان اور زمین کے درمیان تھا۔ میں اس سے اتنا خوف زدہ ہوا کہ زمین کی طرف گر پڑا اور میں اپنے گھر والوں کی طرف آیا، میں نے ان سے کہا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ تو انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5]۔
ابو سلمہ کہتے ہیں: رجز سے مراد بت ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد وحی آنے لگی اور لگاتار آتی رہی۔“
ابو سلمہ کہتے ہیں: رجز سے مراد بت ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد وحی آنے لگی اور لگاتار آتی رہی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم وہ چیز جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو گے اور زیادہ روؤ گے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: قَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا} [الإنسان: ١] حَتَّى خَتَمَهَا، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي لَأَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ أَطَّتِ السَّمَاءُ، وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيهَا قَدْرُ مَوْضِعِ أُصْبُعٍ، إِلَّا مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلَّهِ وَاللهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشِ، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللهِ تَعَالَى، وَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ " فَقَالَ: إِنَّ قَوْلَهُ وَاللهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ مِنْ قَوْلِ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ﴿هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا﴾ [سورة الإنسان: 1] پڑھی یہاں تک کہ سورت ختم کر دی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں وہ چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچراتا ہے اور اس کا حق ہے کہ وہ چرچرائے، آسمان میں ایک انگلی کے برابر بھی جو جگہ ہے وہاں فرشتہ اپنی جبین کو سجدے میں رکھے ہوئے ہے، اللہ کی قسم! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنستے اور زیادہ روتے، اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرتے بلکہ تم جنگلوں کی طرف نکل جاتے اور اللہ سے پناہ مانگتے۔“ راوی فرماتے ہیں: کاش! میں درخت ہوتا اور کاٹ دیا جاتا، یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، کئی مرتبہ، آپ ﷺ اپنی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا، جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور وہ (صحابہ) باتیں کرتے اور جاہلیت کے قصے سناتے تھے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہنستے تھے اور آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " كَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ رُبَّمَا تَنَاشَدُوا عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَالشَّيْءَ مِنْ أُمُورِهِمْ، فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ ".
حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ بہت لمبی دیر خاموش رہتے، کم ہنستے تھے اور بسا اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شعر پڑھتے یا کسی اور چیز کا ذکر کرتے وہ ہنستے تھے اور آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ خَارِجَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ نَفَرًا دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالُوا: حَدِّثْنَا عَنْ بَعْضِ أَخْلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُنْتُ جَارَهُ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ بَعَثَ إِلِيَّ فَآتِيهِ، فَأَكْتُبُ الْوَحْيَ، وَكُنَّا إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا، أَوَ كُلُّ هَذَا نُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ؟ ".
حافظ ثناء اللہ
ایک جماعت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، انہوں نے کہا: ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ ﷺ کا پڑوسی تھا، جب وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ میری طرف پیغام بھیجتے تو میں وحی کو لکھ دیا کرتا اور ہم جب دنیا کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ ذکر کرتے اور جب ہم آخرت کو یاد کرتے تو آپ ﷺ بھی کرتے اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی کرتے تھے۔ ہم یہ تمام چیزیں تمہیں آپ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔