السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
حدیث نمبر: 13340
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي الْوَلِيدِ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ خَارِجَةَ، أَخْبَرَهُ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ نَفَرًا دَخَلُوا عَلَى أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالُوا: حَدِّثْنَا عَنْ بَعْضِ أَخْلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كُنْتُ جَارَهُ، فَكَانَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ بَعَثَ إِلِيَّ فَآتِيهِ، فَأَكْتُبُ الْوَحْيَ، وَكُنَّا إِذَا ذَكَرْنَا الدُّنْيَا ذَكَرَهَا مَعَنَا، وَإِذَا ذَكَرْنَا الْآخِرَةَ ذَكَرَهَا مَعَنَا وَإِذَا ذَكَرْنَا الطَّعَامَ ذَكَرَهُ مَعَنَا، أَوَ كُلُّ هَذَا نُحَدِّثُكُمْ عَنْهُ؟ ".حافظ ثناء اللہ
ایک جماعت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، انہوں نے کہا: ہمیں نبی ﷺ کے اخلاق کے بارے میں کوئی حدیث سنائیں تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں آپ ﷺ کا پڑوسی تھا، جب وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ میری طرف پیغام بھیجتے تو میں وحی کو لکھ دیا کرتا اور ہم جب دنیا کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی ہمارے ساتھ ذکر کرتے اور جب ہم آخرت کو یاد کرتے تو آپ ﷺ بھی کرتے اور جب ہم کھانے کا ذکر کرتے تو آپ ﷺ بھی کرتے تھے۔ ہم یہ تمام چیزیں تمہیں آپ ﷺ سے بیان کرتے ہیں۔