السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " ثُمَّ فَتَرَ الْوَحْيُ عَنِّي، فَبَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ، فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي كَانَ يَجِيئُنِي قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، فَجَئِثْتُ مِنْهُ فَزِعًا حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ، فَجِئْتُ إِلَى أَهْلِي، فَقُلْتُ لَهُمْ زَمِّلُونِي " فَزَمَّلُوهُ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} [المدثر: ٢] " قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: الرُّجْزُ الْأَوْثَانُ قَالَ: " ثُمَّ جَاءَ الْوَحْيُ بَعْدُ وَتَتَابَعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا دُونَ كَلَامِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ.سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی۔ ایک دفعہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو میرے پاس آیا کرتا تھا کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور آسمان اور زمین کے درمیان تھا۔ میں اس سے اتنا خوف زدہ ہوا کہ زمین کی طرف گر پڑا اور میں اپنے گھر والوں کی طرف آیا، میں نے ان سے کہا: ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ تو انہوں نے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا دی اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنذِرْ وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾ [سورة المدثر: 1-5]۔
ابو سلمہ کہتے ہیں: رجز سے مراد بت ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس کے بعد وحی آنے لگی اور لگاتار آتی رہی۔“