السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
حدیث نمبر: 13338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، کئی مرتبہ، آپ ﷺ اپنی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا، جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور وہ (صحابہ) باتیں کرتے اور جاہلیت کے قصے سناتے تھے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہنستے تھے اور آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔