حدیث نمبر: 13338
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ كَثِيرًا كَانَ لَا يَقُومُ مِنْ مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَإِذَا طَلَعَتْ قَامَ، وَكَانُوا يَتَحَدَّثُونَ، فَيَأْخُذُونَ فِي أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَيَضْحَكُونَ وَيَتَبَسَّمُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ

سماک بن حرب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نبی ﷺ کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، کئی مرتبہ، آپ ﷺ اپنی نماز والی جگہ سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک سورج طلوع نہ ہو جاتا، جب سورج طلوع ہو جاتا تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور وہ (صحابہ) باتیں کرتے اور جاہلیت کے قصے سناتے تھے اور لوگ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہنستے تھے اور آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النكاح / حدیث: 13338
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2322»