السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النكاح— نکاح کا بیان
باب: ما كان مطالبا برؤية مشاهدة الحق مع معاشرة الناس بالنفس والكلام باب: لوگوں کے ساتھ اپنے وجود اور کلام سے میل جول رکھنے کے باوجود آپ ﷺ سے حق کے مشاہدے کی جو طلب تھی
حدیث نمبر: 13339
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، وَقَيْسٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " كَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ قَلِيلَ الضَّحِكِ، وَكَانَ أَصْحَابُهُ رُبَّمَا تَنَاشَدُوا عِنْدَهُ الشِّعْرَ وَالشَّيْءَ مِنْ أُمُورِهِمْ، فَيَضْحَكُونَ وَرُبَّمَا تَبَسَّمَ ".حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا آپ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ بہت لمبی دیر خاموش رہتے، کم ہنستے تھے اور بسا اوقات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم شعر پڑھتے یا کسی اور چیز کا ذکر کرتے وہ ہنستے تھے اور آپ ﷺ صرف مسکراتے تھے۔