کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے (زکوٰۃ کو) مالداروں کے پاس چھوڑ دیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ: عَنَاقًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے بعض لوگوں نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوبکر! تو ان لوگوں سے کیسے لڑائی کرے گا، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”مجھے لوگوں سے لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیں، جس بندے نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچا لی مگر اس کا حق اور حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں اس بندے کے خلاف ضرور لڑائی کروں گا، جس نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا۔ بے شک زکاۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے ایک رسی بھی روک لیں گے جو وہ آپ ﷺ کے دور میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے لڑائی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے دیکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو اللہ پاک نے لڑائی کے لیے کھول دیا ہے تو میں نے جان لیا کہ یہ حق ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13115
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1400
تخریج حدیث «بخاري 1400۔ 1457»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عِقَالًا رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَقَالَ: عِقَالًا، وَرَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَنَاقًا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ مَعْمَرٌ وَالزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَرَوَاهُ رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: عَنَاقًا، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْهُ قَالَ: عِقَالًا، وَكَذَلِكَ قَالَهُ ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ⦗٦⦘ وَرَوَاهُ عَنْبَسَةُ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: عَنَاقًا، اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَقِيلَ عَنْهُ: عَنَاقًا، وَقِيلَ: عِقَالًا.
حافظ ثناء اللہ
امام لیث رحمہ اللہ سے پچھلی حدیث کی طرح روایت ہے، مگر اس میں «لَمَنَاقًا» کی جگہ «عِقَالًا» کے الفاظ ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13116
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنِ الْكِسَائِيِّ قَالَ: الْعِقَالُ صَدَقَةُ عَامٍ وَعَنِ الْأَصْمَعِيِّ قَالَ: يُقَالُ بُعِثَ فُلَانٌ عَلَى عِقَالِ بَنِي فُلَانٍ إِذَا بُعِثَ عَلَى صَدَقَاتِهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام کسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عِقَال» عام صدقہ کو کہتے ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فلاں کو فلاں قبیلے کی «عِقَال» لینے کے لیے بھیجا گیا، یہ اس وقت ہے جب اسے زکوۃ لینے کے لیے بھیجا گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13117
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ حِزَامُ بْنُ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَادًّا حَقْوَهُ بِعِقَالٍ، وَهُوَ يُمَارِسُ شَيْئًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ مَنْصُورٌ: حِفْظِي أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُهَا فِيمَنْ يَزِيدُ، كُلَّمَا بَاعَ بَعِيرًا مِنْهَا شَدَّ حَقْوَهُ بِعِقَالِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا يَعْنِي بِتِلْكَ الْعِقَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
حزام بن ہشام بن حبیش خزاعی نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنی کمر کو مضبوطی کے ساتھ رسی سے باندھ لیتے اور وہ ان سے صدقے کے اونٹوں کو باندھنے کی مشقت کرتے تھے، منصور کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ وہ زائد اونٹوں کو بیچ دیتے تھے، جب اونٹ بیچتے تو اس کو اپنی رسی کے ساتھ باندھتے، پھر اس کو صدقہ کر دیتے، یعنی اس رسی کو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13118
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْعَنْبَسِ: هَذَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کر لیں اور وہ نماز قائم کرنے لگ جائیں اور زکاۃ کی ادائیگی شروع کر دیں، جب وہ یہ کام کر لیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو گئے لیکن ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13119
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزْازُ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَا: ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَايُّ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ⦗٧⦘ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں یہاں تک کہ وہ کلمے کا اقرار کر لیں، اور نماز کی ادائیگی شروع کر دیں اور زکوٰۃ دینے لگ جائیں۔ جب وہ یہ کام کرنے لگ جائیں گے تو انہوں نے مجھ سے اپنے مال اور اپنے خون کو بچا لیا مگر اس کا حق اور حساب اللہ کے سپرد ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13120
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»