السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: لا يسع الولاة تركه لأهل الأموال باب: حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے (زکوٰۃ کو) مالداروں کے پاس چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13119
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ حُرِّمَتْ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ " قَالَ الشَّيْخُ أَبُو الْعَنْبَسِ: هَذَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑائی کروں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کا اقرار کر لیں اور وہ نماز قائم کرنے لگ جائیں اور زکاۃ کی ادائیگی شروع کر دیں، جب وہ یہ کام کر لیں گے تو ان کے خون اور مال مجھ پر حرام ہو گئے لیکن ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔“