السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: لا يسع الولاة تركه لأهل الأموال باب: حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے (زکوٰۃ کو) مالداروں کے پاس چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13118
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ، أنبأ حِزَامُ بْنُ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ الْخُزَاعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ شَادًّا حَقْوَهُ بِعِقَالٍ، وَهُوَ يُمَارِسُ شَيْئًا مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَالَ مَنْصُورٌ: حِفْظِي أَنَّهُ كَانَ يَبِيعُهَا فِيمَنْ يَزِيدُ، كُلَّمَا بَاعَ بَعِيرًا مِنْهَا شَدَّ حَقْوَهُ بِعِقَالِهِ، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهَا يَعْنِي بِتِلْكَ الْعِقَالِ ".حافظ ثناء اللہ
حزام بن ہشام بن حبیش خزاعی نے اپنے والد کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اپنی کمر کو مضبوطی کے ساتھ رسی سے باندھے ہوئے تھے اور وہ صدقے کے کچھ اونٹوں کی دیکھ بھال کی مشقت کر رہے تھے، منصور کہتے ہیں: مجھے یاد ہے کہ وہ انہیں بولی (نیلامی) میں بیچ رہے تھے، جب کوئی اونٹ بیچتے تو اس کی رسی اپنی کمر پر باندھ لیتے، پھر ان کو صدقہ کر دیتے، یعنی ان رسیوں کو۔