السنن الكبرى للبيهقي
كتاب قسم الصدقات— صدقات کا بیان
باب: لا يسع الولاة تركه لأهل الأموال باب: حکمرانوں کے لیے جائز نہیں کہ اسے (زکوٰۃ کو) مالداروں کے پاس چھوڑ دیں
حدیث نمبر: 13117
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنِ الْكِسَائِيِّ قَالَ: الْعِقَالُ صَدَقَةُ عَامٍ وَعَنِ الْأَصْمَعِيِّ قَالَ: يُقَالُ بُعِثَ فُلَانٌ عَلَى عِقَالِ بَنِي فُلَانٍ إِذَا بُعِثَ عَلَى صَدَقَاتِهِمْ.حافظ ثناء اللہ
امام کسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عِقَال» عام صدقہ کو کہتے ہیں۔ اصمعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ فلاں کو فلاں قبیلے کی «عِقَال» لینے کے لیے بھیجا گیا، یہ اس وقت ہے جب اسے زکوۃ لینے کے لیے بھیجا گیا۔