حدیث نمبر: 13115
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعْدَهُ، وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ، إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللهِ "؟ قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَاللهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَوَاللهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ بِهَذَا اللَّفْظِ: عَنَاقًا.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا تو عرب کے بعض لوگوں نے زکاۃ دینے سے انکار کر دیا، عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابوبکر! تو ان لوگوں سے کیسے لڑائی کرے گا، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا تھا: ”مجھے لوگوں سے لڑائی کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیں، جس بندے نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ پڑھ لیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان بچا لی مگر اس کا حق اور حساب اللہ تعالیٰ پر ہے۔“ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں اس بندے کے خلاف ضرور لڑائی کروں گا، جس نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا۔ بے شک زکاۃ مال کا حق ہے، اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے ایک رسی بھی روک لیں گے جو وہ آپ ﷺ کے دور میں دیا کرتے تھے تو میں ان سے لڑائی کروں گا، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نے دیکھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سینے کو اللہ پاک نے لڑائی کے لیے کھول دیا ہے تو میں نے جان لیا کہ یہ حق ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب قسم الصدقات / حدیث: 13115
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 1400
تخریج حدیث «بخاري 1400۔ 1457»