أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ فِيهَا مَا ذَكَرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ "، قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے اگر آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھے کیا اسے قتل کر دے پھر آپ اسے (قصاص میں) قتل کر دو گے یا وہ کیا کرے؟“ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لعان کے بارے میں نازل کیا، رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ آچکا ہے۔“ راوی نے کہا: ان دونوں نے لعان کیا اور میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر میں اسے روک لوں تو گویا میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہے،“ پھر اس نے اسے جدا کر دیا۔ اس کے بعد یہی سنت جاری کر دی گئی کہ دو لعان کرنے والوں میں جدائی کرا دی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی لیکن اس نے اس حمل سے انکار کر دیا۔ اس کا بیٹا ماں کے نام سے پکارا جانے لگا۔ پھر یہ سنت جاری ہو گئی کہ بیٹا ماں کا وارث ہو گا اور وہ اللہ کے فرض کردہ حصہ میں اس کی وارث ہو گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَمَا بَقِيَ فَلِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی کتاب کے مطابق اہل فرائض میں مال تقسیم کر دو جو باقی بچے وہ قریبی مذکر کا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ⦗٤٢٣⦘ قَالَ: " جَاءَ قَوْمٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَاخْتَصَمُوا فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَجَاءَ وَلَدُ أَبِيهِ يَطْلُبُونَ مِيرَاثَهُ "، قَالَ: " فَجَعَلَ مِيرَاثَهُ لِأُمِّهِ، وَجَعَلَهَا عَصَبَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے لعان کرنے والوں کی اولاد کے بارے میں اختلاف کیا۔ اس کے باپ کی اولاد آئی، وہ اس کی میراث کا مطالبہ کر رہے تھے؛ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی وراثت ماں کو دے دی اور ماں کو اس کا عصبہ بنا دیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ، قَالَا: " عَصَبَةُ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أُمُّهُ تَرِثُ مَالَهُ أَجْمَعَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أُمٌّ فَعَصَبَتُهَا عَصَبَتُهُ، وَوَلَدُ الزِّنَا بِمَنْزِلَتِهِ "، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لعان کرنے والوں کے بیٹے کی عصبہ اس کی ماں ہے، وہ اس کے سارے مال کی وارث بنے گی، اگر اس کی ماں نہ ہو تو ماں کے عصبہ اس کے عصبہ ہوں گے اور زنا والی اولاد اپنے مقام پر ہوگی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ماں کے لیے ثلث ہے اور باقی بیت المال کے لیے ہے۔
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ تَرَكَ أَخَاهُ وَأُمَّهُ: " لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَلِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ رَدٌّ عَلَيْهِمَا بِحِسَابِ مَا وَرِثَا " وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " لِلْأَخِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُمِّ؛ فَهِيَ عَصَبَتُهُ " وَقَالَ زَيْدٌ: " لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَلِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ملاعنہ کے بیٹے کے بارے میں کہا جس نے اپنا بھائی اور ماں کو چھوڑا تھا، ماں کے لیے ثلث اور بھائی کے لیے سدس اور باقی ماندہ دونوں پر وارث ہونے کے حساب سے لوٹا دیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی کے لیے سدس اور باقی ماں کے لیے ہے اور وہ عصبہ ہے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں کے لیے ثلث، بھائی کے لیے سدس ہے اور باقی بیت المال کے لیے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى، أنا يَزِيدُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عَلِيًّا وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَا فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ تَرَكَ أَخَاهُ وَأُمَّهُ: " لِلْأَخِ الثُّلُثُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ "، وَقَالَ زَيْدٌ: " لِلْأَخِ السُّدُسُ، وَلِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَلِبَيْتِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے ملاعنہ کے بیٹے کے بارے میں کہا: جس نے بھائی اور ماں کو چھوڑا تو بھائی کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“ اور ماں کے لیے بھی «الثُّلُثُ» ”تہائی“ ہے۔ سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں کے لیے «الثُّلُثُ» ”تہائی“، بھائی کے لیے «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ اور باقی بیت المال کے لیے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَجْعَلُ مِيرَاثَهُ كُلَّهُ لِأُمِّهِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أُمٌّ كَانَ لِعَصَبَتِهَا، قَالَ: وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ ذَلِكَ، قَالَ: وَكَانَ عَلِيٌّ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: " لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَبَقِيَّتُهُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ " وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا نَحْوَهُ. وَالرِّوَايَةُ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُخْتَلِفَةٌ، وَقَوْلُهُ مَعَ زَيْدٍ أَشْبَهُ بِمَا ذَكَرْنَا مِنَ السُّنَّةِ، الصَّحِيحُ عَنْ عَلِيٍّ مَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی ساری میراث ماں کو دیتے تھے، اگر اس کی ماں نہ ہوتی تو اس کے عصبہ کو دیتے تھے اور حسن رحمہ اللہ یہی بات کہتے ہیں اور علی اور زید رضی اللہ عنہما کہتے تھے: ماں کے لیے ثلث اور باقی مسلمانوں کے بیت المال کے لیے ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا سُئِلَا عَنْ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا مَنْ يَرِثُهُ، فَقَالَا: " تَرِثُهُ أُمُّهُ حَقَّهَا، وَإِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِ حُقُوقَهُمْ، وَيَرِثُ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ مَوَالِي أُمِّهِ إِنْ كَانَتْ مَوْلَاةً، وَإِنْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً وَرِثَتْ حَقَّهَا، وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ مِنْ أُمِّهِمْ ⦗٤٢٤⦘ حُقُوقَهُمْ، وَوَرِثَ مَا بَقِيَ مِنْ مَالِهِ الْمُسْلِمُونَ " قَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَلِكَ الْأَمْرُ عِنْدَنَا، وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر اور سلیمان بن یسار سے ملاعنہ کے بیٹے اور زنا سے پیدا ہونے والے بیٹے کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا وارث کون بنے گا؟ تو دونوں نے کہا: اس کی وراثت کی حق دار اس کی ماں ہے اور اس کے اخیافی بھائی حق دار ہیں اور باقی مال کے وارث اس کی ماں کے موالی ہوں گے اگر وہ آزاد کردہ لونڈی ہو؛ اور اگر وہ عربیہ (آزاد عرب عورت) ہو تو وہ اپنے حق کی وارث بنے گی اور اس کے اخیافی بھائی اپنے حقوق کے وارث ہوں گے اور اس کے باقی مال کے وارث مسلمان ہوں گے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ہاں یہی موقف ہے اور میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ہاں یہی موقف ہے اور میں نے اپنے شہر کے اہل علم کو اسی پر پایا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: " وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ بِقَوْلِنَا فِيهِمَا، إِلَّا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ؛ إِذَا كَانَتْ أُمُّهُ عَرَبِيَّةً أَوْ لَا وَلَاءَ لَهَا رَدُّوا مَا بَقِيَ مِنْ مِيرَاثِهِ عَلَى عَصَبَةِ أُمِّهِ، وَقَالُوا: عَصَبَةُ أُمِّهِ عَصَبَتُهُ، وَاحْتَجُّوا فِيهِ بِرِوَايَةٍ لَيْسَتْ بِثَابِتَةٍ، وَأُخْرَى لَيْسَتْ مِمَّا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ بعض اہل علم نے ہمارے والی بات کہی ہے مگر ایک خصلت میں، جبکہ اس کی ماں کوئی «عَرَبِيَّةٌ» (عورت) ہو یا اس کی «وَلَاءٌ» نہ ہو تو اس کی باقی میراث اس کی ماں کے «عَصَبَة» پر لوٹا دو اور انہوں نے کہا: اس کی ماں کے عصبہ ہی اس کے عصبہ ہیں۔ انہوں نے ایسی روایات سے دلیل لی ہے جو ثابت نہیں ہیں اور دوسری ایسی ہیں جو حجت کے قابل نہیں ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّصْرِيِّ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَحُوزُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا، وَلَقِيطَهَا، وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ " قَالَ أَبُو أَحْمَدَ عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ النَّصْرِيِّ فِيهِ نَظَرٌ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: سَمِعْتُ ابْنَ حَمَّادٍ يَذْكُرُهُ عَنِ الْبُخَارِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت کے لیے تین قسم کی میراث جائز ہے: اس کے آزاد کردہ کی، اور اس لاوارث بچے کی جسے اس نے اٹھا کر پالا ہو، اور اس بیٹے کی ہوگی جو لعان سے پیدا ہوا ہو۔“
عمر بن رؤبہ تغلبی کی عبد الواحد نصری سے روایت میں نظر ہے۔
عمر بن رؤبہ تغلبی کی عبد الواحد نصری سے روایت میں نظر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَمُوسَى بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ثنا مَكْحُولٌ قَالَ: " جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ لِأُمِّهِ وَلِوَرَثَتِهَا مِنْ بَعْدِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مکحول رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”ملاعنہ کے بیٹے کی وراثت کا حق دار اس کی ماں کو بنایا اور اس کے بعد اس کے وارثوں کو۔“
قَالَ: وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ الشَّيْخُ: حَدِيثُ مَكْحُولٍ مُنْقَطِعٌ، وَعِيسَى هُوَ ابْنُ مُوسَى أَبُو مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ فِيهِ نَظَرٌ.
حافظ ثناء اللہ
پچھلی حدیث کی طرح ہے۔
مکحول کی حدیث منقطع ہے، اور عیسیٰ جو ابن موسیٰ ابو محمد قرشی ہیں، ان میں نظر ہے۔
مکحول کی حدیث منقطع ہے، اور عیسیٰ جو ابن موسیٰ ابو محمد قرشی ہیں، ان میں نظر ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: كَتَبْتُ إِلَى أَخٍ لِي مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ: لِمَنْ قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ؟ فَقَالَ: قَضَى بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهِ، قَالَ: " هِيَ بِمَنْزِلَةِ أَبِيهِ وَمَنْزِلَةِ أُمِّهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عبید انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائی کو لکھا جو بنی زریق سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ملاعنہ کے بیٹے کے بارے میں کیا فیصلہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اس کا اس کی ماں کے حق میں فیصلہ کیا اور فرمایا: ”وہ اس کے باپ اور ماں کی مانند ہے“۔
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ ⦗٤٢٥⦘ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَلَدُ الْمُلَاعَنَةِ عَصَبَتُهُ عَصَبَةُ أُمِّهِ " أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ، ثنا اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ، وَقَدْ حَمَلَ الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ رَحِمَهُ اللهُ هَذِهِ الْأَخْبَارَ عَلَى مَا لَوْ كَانَتْ أُمُّهُ مَوْلَاةَ الْعَتَاقَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ رحمہ اللہ نے شام کے ایک آدمی سے نقل کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”ملاعنہ کے بیٹے کے عصبہ اس کی ماں کے عصبہ ہیں۔“
استاذ ابو الولید رحمہ اللہ نے ان اخبار کو اس پر محمول کیا ہے کہ اگر اس کی ماں آزاد کردہ لونڈی ہو۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔
استاذ ابو الولید رحمہ اللہ نے ان اخبار کو اس پر محمول کیا ہے کہ اگر اس کی ماں آزاد کردہ لونڈی ہو۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔