کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: حمل (پیٹ میں موجود بچے) کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12485
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا اسْتَهَلَّ الْمَوْلُودُ وَرِثَ " وَرَوَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ يَعْقُوبَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ مَوْصُولًا بِالْحَدِيثِ: " تِلْكَ طَعْنَةُ الشَّيْطَانِ، كُلُّ بَنِي آدَمَ نَائِلٌ مِنْهُ تِلْكَ الطَّعْنَةَ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مَرْيَمَ وَابْنِهَا؛ فَإِنَّهَا لَمَّا وَضَعَتْهَا أُمُّهَا قَالَتْ {إِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ} [آل عمران: ٣٦]، فَضُرِبَ دُونَهَا بِحِجَابٍ فَطَعَنَ فِيهِ "، يَعْنِي فِي الْحِجَابِ. وَفِي رِوَايَةِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعَنُ الشَّيْطَانُ فِي جَنْبِهِ حِينَ تَلِدُهُ أُمُّهُ، إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعَنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: رَأَيْتُ هَذِهِ الصَّرْخَةَ الَّتِي يَصْرِخُهَا الصَّبِيُّ حِينَ تَلِدُهُ أُمُّهُ، فَإِنَّهَا مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب بچہ رو پڑے تو وہ وارث بنا دیا جائے گا۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”یہ شیطان کا چھونا ہے، ہر بنی آدم کا اس سے واسطہ پڑتا ہے مگر مریم اور ان کا بیٹا، اس لیے کہ جب وہ پیدا ہوئے تو ان کی ماں نے کہا: ﴿وَإِنِّی أُعِیذُهَا بِكَ وَذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِیمِ﴾ [سورة آل عمران: 36] ”بیشک میں اسے تیری پناہ میں دیتی ہوں اور اس کی اولاد کو بھی شیطان مردود سے“، پس شیطان نے ان کو پردے میں سے چھو لیا تھا۔“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ہر بنی آدم کو شیطان کچوکا لگاتا ہے اس کی پیٹھ میں جب اسے اس کی ماں جنتی ہے مگر عیسیٰ بن مریم، وہ (شیطان) چھونے کے لیے گیا پس پردے میں سے چھوا تھا“، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس چیخ کو دیکھا جو بچے سے نکلتی ہے جب اسے اس کی ماں جنم دیتی ہے، پس وہ اسی (شیطان) کی جانب سے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12485
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ اخرجه السجتاني 2920»
حدیث نمبر: 12486
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، حَدَّثَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " مِنَ السُّنَّةِ أَنْ لَا يَرِثَ الْمَنْفُوسُ وَلَا يُورَثُ، حَتَّى يَسْتَهِلَّ صَارِخًا " كَذَا وَجَدْتُهُ، وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَرِثُ الصَّبِيُّ إِذَا لَمْ يَسْتَهِلَّ، وَالِاسْتِهْلَالُ: الصِّيَاحُ أَوِ الْعُطَاسُ أَوِ الْبُكَاءُ وَلَا يُكْمَلُ دِيَتُهُ. وَقَالَ سَعِيدٌ: لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَرُوِيَ مِنْ حَدِيثِ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سنت سے ثابت ہے کہ کوئی نفس وارث نہیں بن سکتا اور نہ وارث بنایا جا سکتا ہے یہاں تک کہ وہ چیخ پڑے۔ میں نے اسی طرح سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بچہ اس وقت تک وارث نہیں بن سکتا یہاں تک کہ وہ رو پڑے“ اور «الِاسْتِهْلَالُ» کا مطلب ہے: ”چیخ، کھانسی یا رونا“ اور اس کی دیت مکمل نہ ہوگی۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس پر نماز جنازہ ہی نہ پڑھی جائے گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12486
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 12487
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْأَوْسَاقِ الَّتِي نَحَلَهَا إِيَّاهَا: " فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ أَوِ حُزْتِيهِ كَانَ لَكِ، وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُمْ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ؛ فَاقْتَسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: وَاللهِ يَا أَبَتِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ، إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ، فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: " ذُو بَطْنِ بِنْتِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً ".
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان وسقوں کے بارے میں (جو انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیے تھے) فرمایا: ”اگر تو نے انہیں کاٹ لیا ہے اور قبضہ میں لے لیا ہے تو وہ تیرے ہیں، ورنہ وہ آج سے وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں، اللہ کی کتاب کے مطابق تقسیم کرلینا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اللہ کی قسم! اے ابا جان! اگر ایسی بات ہے تو میں چھوڑ دیتی ہوں، ایک اسماء رضی اللہ عنہا بہن ہے، دوسری کون ہے؟“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں میرے خیال میں لڑکی ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12487
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 12488
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِي، وَأَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَحْيَى بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، امْرَأَةِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ: رَجَعَ إِلِيَّ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَوْمًا فَقَالَ: " إِنْ كَانَتْ لَكِ حَاجَةٌ أَنْ نُكَلِّمَهُ فِي مِيرَاثِكِ مِنْ أَبِيكِ؛ فَإِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ وَرَّثَ الْحَمْلَ الْيَوْمَ "، وَكَانَتْ أُمُّ سَعْدٍ حَامِلًا مَقْتَلَ أَبِيهَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ، فَقَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ: مَا كُنْتُ لِأَطْلُبَ مِنْ إِخْوَتِي شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا: ایک دن میری طرف زید بن ثابت آئے اور کہا: اگر تجھے ضرورت ہو تو ہم تیرے باپ سے تیری میراث کے بارے میں بات کریں؟ بیشک امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حمل والے کو وارث بنایا ہے اور ام سعد باپ کے قتل کے وقت حمل میں تھیں، پس ام سعد نے کہا: میں اپنی بہنوں سے کچھ نہ لوں گی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12488
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»