السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث ولد الملاعنة باب: لعان کرنے والی عورت کے بچے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12493
وَبِإِسْنَادِهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ تَرَكَ أَخَاهُ وَأُمَّهُ: " لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَلِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ رَدٌّ عَلَيْهِمَا بِحِسَابِ مَا وَرِثَا " وَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " لِلْأَخِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُمِّ؛ فَهِيَ عَصَبَتُهُ " وَقَالَ زَيْدٌ: " لِأُمِّهِ الثُّلُثُ، وَلِأَخِيهِ السُّدُسُ، وَمَا بَقِيَ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ ".حافظ ثناء اللہ
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ملاعنہ کے بیٹے کے بارے میں کہا جس نے اپنا بھائی اور ماں کو چھوڑا تھا، ماں کے لیے ثلث اور بھائی کے لیے سدس اور باقی ماندہ دونوں پر وارث ہونے کے حساب سے لوٹا دیا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بھائی کے لیے سدس اور باقی ماں کے لیے ہے اور وہ عصبہ ہے۔ زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ماں کے لیے ثلث، بھائی کے لیے سدس ہے اور باقی بیت المال کے لیے ہے۔