السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث ولد الملاعنة باب: لعان کرنے والی عورت کے بچے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12492
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ، قَالَا: " عَصَبَةُ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ أُمُّهُ تَرِثُ مَالَهُ أَجْمَعَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أُمٌّ فَعَصَبَتُهَا عَصَبَتُهُ، وَوَلَدُ الزِّنَا بِمَنْزِلَتِهِ "، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " لِلْأُمِّ الثُّلُثُ، وَمَا بَقِيَ فَفِي بَيْتِ الْمَالِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ لعان کرنے والوں کے بیٹے کی عصبہ اس کی ماں ہے، وہ اس کے سارے مال کی وارث بنے گی، اگر اس کی ماں نہ ہو تو ماں کے عصبہ اس کے عصبہ ہوں گے اور زنا والی اولاد اپنے مقام پر ہوگی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ماں کے لیے ثلث ہے اور باقی بیت المال کے لیے ہے۔