السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الفرائض— وراثت کا بیان
باب: ميراث ولد الملاعنة باب: لعان کرنے والی عورت کے بچے کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 12497
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: " وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ بِقَوْلِنَا فِيهِمَا، إِلَّا فِي خَصْلَةٍ وَاحِدَةٍ؛ إِذَا كَانَتْ أُمُّهُ عَرَبِيَّةً أَوْ لَا وَلَاءَ لَهَا رَدُّوا مَا بَقِيَ مِنْ مِيرَاثِهِ عَلَى عَصَبَةِ أُمِّهِ، وَقَالُوا: عَصَبَةُ أُمِّهِ عَصَبَتُهُ، وَاحْتَجُّوا فِيهِ بِرِوَايَةٍ لَيْسَتْ بِثَابِتَةٍ، وَأُخْرَى لَيْسَتْ مِمَّا تَقُومُ بِهَا حُجَّةٌ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ بعض اہل علم نے ہمارے والی بات کہی ہے مگر ایک خصلت میں، جبکہ اس کی ماں کوئی «عَرَبِيَّةٌ» (عورت) ہو یا اس کی «وَلَاءٌ» نہ ہو تو اس کی باقی میراث اس کی ماں کے «عَصَبَة» پر لوٹا دو اور انہوں نے کہا: اس کی ماں کے عصبہ ہی اس کے عصبہ ہیں۔ انہوں نے ایسی روایات سے دلیل لی ہے جو ثابت نہیں ہیں اور دوسری ایسی ہیں جو حجت کے قابل نہیں ہیں۔