کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زنا کی اولاد زانی کا وارث نہیں ہوتی اور نہ زانی اس کا وارث ہوتا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَلْمِ بْنِ أَبِي الذَّيَّالِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام میں لونڈی کی کمائی نہیں ہے، جس نے جاہلیت میں یہ کمائی، پھر اس عورت کا لڑکا ہوا تو اس کا نسب اس کے مولیٰ سے ملے گا اور جو شخص کسی بچے کا دعویٰ کرے بغیر نکاح کے تو نہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ وہ بچے کا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12503
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى إِلَيْهِ فَادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ مِنْ بَعْدُ، فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ، لَيْسَ لَهُ فِيمَا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ، وَمَنْ أَدْرَكَ الْمِيرَاثَ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا، فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ، وَإِنْ كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس لڑکے کے بارے میں فیصلہ کیا جو اپنے باپ کے مر جانے کے بعد اس سے ملایا جائے جس کے نام سے پکارا جاتا تھا اور باپ کے وارث اسے ملانا چاہیں تو آپ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ ”اگر وہ لڑکا لونڈی سے ہے جس کا وہ جماع کے وقت مالک تھا تو اس کا نسب ملانے والے سے مل جائے گا لیکن جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گیا، اس میں اس کا حصہ نہ ہو گا اور جو ترکہ تقسیم نہ ہوا ہو اس میں اس کا بھی حصہ ہو گا لیکن جب وہ باپ جس سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے، اپنی زندگی میں اس کا انکار کرتا ہو تو وارثوں کے ملانے سے نہیں ملے گا۔ اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا وہ آزاد عورت کے پیٹ سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ وہ اس کا وارث ہو گا اگرچہ اس کے باپ نے اپنی زندگی میں اس کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ «وَلَدُ الزِّنَا» ”زنا کی اولاد“ ہے اگرچہ آزاد کے پیٹ سے ہو یا لونڈی کے پیٹ سے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12504
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ، وَزَادُوا: ذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الْإِسْلَامِ فَقَدْ مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن راشد کی سند میں زیادتی ہے اور یہ شروعِ اسلام میں نسب ملایا جاتا تھا، اسلام سے پہلے مال تقسیم کیا جاتا ہے پس وہ گزر چکا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الفرائض / حدیث: 12505
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»