کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، يُحَدِّثَانِهِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلَامًا كَانَ لِي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هَذَا؟ " قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَارْجِعْهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ان کو ان کا والد رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا اور کہا: میں نے اس بیٹے کو ایک غلام دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح غلام دیا ہے؟“ اس نے نہ میں جواب دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو واپس لوٹا دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11992
درجۂ حدیث محدثین: بخاري 2587
تخریج حدیث «بخاري 2587۔ مسلم 1623»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَيْبَانَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ يَقُولُ: نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَأَمَرَتْنِي أُمِّي أَنْ أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُشْهِدُهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَارْدُدْهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمن دونوں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ میرے والد نے مجھے غلام دیا، میری ماں نے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں اور آپ ﷺ کو اس پر گواہ مقرر کر لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اسے بھی واپس لوٹا دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11993
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ لَهُ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنَ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ "، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ حُصَيْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں یہاں تک کہ تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے بیٹے کو غلام دیا ہے اور اس (عمرہ) نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بنا لوں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ واپس لوٹے اور اپنے عطیہ کو واپس لے لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11994
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي، ⦗٢٩٣⦘ وَإِنَّهَا قَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لِابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ نُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ: " يَا بَشِيرُ، ألَكَ وَلَدٌ سِوَى وَلَدِكَ هَذَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تُشْهِدْنِي "، أَوْ قَالَ: " لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے اپنے مال میں سے کچھ میرے لیے ہبہ کرنے کا سوال کیا، ایک سال تک اس نے نہ کیا۔ پھر والد نے میرے لیے ہبہ کیا، میری ماں نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں، یہاں تک کہ تو رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بنا لے جو تو نے میرے بیٹے کو ہبہ کیا ہے۔ پس باپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت بچہ تھا اور وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی ماں رواحہ کی بیٹی ہے، ایک سال سے وہ مجھ سے اسے ہبہ کرنے کے بارے میں لڑائی کر رہی تھی، پس اب میں نے ہبہ کر دیا اور اس کو پسند ہے کہ آپ ﷺ اس پر گواہ بن جائیں، آپ ﷺ نے کہا: ”اے بشیر! کیا تیری اس کے علاوہ اور بھی اولاد ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو مجھے گواہ نہ بنا، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11995
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا، فَأَرَادَ أَنْ يُشْهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ كَمَا نَحَلْتَهُ؟ " فَقَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَ وَلَدِكَ، كَمَا عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ " تَفَرَّدَ مُجَالِدٌ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو ان کے باپ نے عطیہ دیا، انہوں نے ارادہ کیا کہ نبی ﷺ کو اس پر گواہ بنالیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اوپر حق ہے کہ تو اپنی اولاد کے درمیان عدل کرے، جس طرح ان پر حق ہے کہ وہ تیرے ساتھ نیکی کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11996
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ الي قوله نحلة، اخرجه الطيالسي»
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِيَ وَقَالَتْ: أَشْهِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَهُ أُخْوَةٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو عطیہ دے اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ مقرر کر۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: فلاں کی بیٹی مجھ سے سوال کرتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو عطیہ دوں اور کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گواہ بناؤ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صحیح نہیں ہے اور نہ میں ظلم پر گواہ بنتا ہوں۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11997
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَرَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زُهَيْرٍ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ إِلَّا عَلَى حَقٍّ " أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَاصِمٌ، ثنا زُهَيْرٌ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
زہیر نے اسی طرح روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11998
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمُ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " لَفْظُهُمَا سَوَاءٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو، اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11999
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ، فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں برابری کرو، اگر میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں کو فضیلت دیتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 12000
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ الي كل العطية»