کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات پر استدلال کہ آپ ﷺ کا اولاد کے درمیان عطیے میں برابری کرنے کا حکم اختیار پر مبنی ہے نہ کہ وجوب پر
حدیث نمبر: 12001
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: جَاءَ بِي أَبِي يَحْمِلُنِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، اشْهَدْ أَنِّي نَحَلْتُ النُّعْمَانَ مِنْ مَالِي كَذَا وَكَذَا، قَالَ: " كُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَلَا إِذًا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ: " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے والد مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ گواہ بن جائیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال سے اتنا عطیہ دیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے، جس طرح نعمان کو دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو، کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی میں سب برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس وقت نہیں۔“
شعبی رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی اور کرم میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“
شعبی رحمہ اللہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں کہ وہ تیرے لیے نیکی اور کرم میں برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر اس پر میرے علاوہ کسی اور کو گواہ بنا لو۔“
حدیث نمبر: 12002
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا سَيَّارٌ، وَأَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، وَأنبأ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَمُجَالِدٍ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نُحْلًا، قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ: مِنْ بَيْنِ الْقَوْمِ نَحَلَهُ غُلَامًا لَهُ، قَالَ: فَقَالَتْ لَهُ أُمِّي عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَشْهِدْهُ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي النُّعْمَانَ نُحْلًا، وَإِنَّ عَمْرَةَ سَأَلَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ: فَقَالَ: " أَلَكَ وَلَدٌ سِوَاهُ؟ " قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " وَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ الَّذِي أَعْطَيْتَ النُّعْمَانَ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ: " هَذَا جَوْرٌ "، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: " هَذَا تَلْجِئَةٌ؛ فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " قَالَ مُغِيرَةُ فِي حَدِيثِهِ: " أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا لَكَ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَاءً؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَأَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي " وَذَكَرَ مُجَالِدٌ فِي حَدِيثِهِ: " إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَيْنَهُمْ، كَمَا أَنَّ لَكَ عَلَيْهِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ يَبَرُّوكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، اسماعیل بن سالم نے لوگوں کے درمیان سے کہا: غلام کا عطیہ دیا۔ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میری ماں عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ ﷺ کے پاس جا اور آپ کو گواہ بنا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو نعمان کی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ظلم ہے۔“ اور بعض نے کہا: یہ خاص عطیہ ہے جو دوسروں کو چھوڑ کر اسے دیا گیا ہے یا مجبوری کا عطیہ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ مغیرہ کے الفاظ ہیں: ”کیا تجھے پسند نہیں وہ کہ نیکی اور کرم میں تیرے لیے برابر ہوں؟“ انہوں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔“ اور مجاہد نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ ”تیرے اوپر ان کے لیے حق ہے کہ ان کے درمیان عدل کر، جس طرح ان پر تیرا حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔“
حدیث نمبر: 12003
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفَ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، فَذَكَرَ الْقِصَّةَ بِطُولِهَا، قَالَ فِي آخِرِهَا: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى هَذَا؛ هَذَا جَوْرٌ، أَشْهِدْ عَلَى هَذَا غَيْرِي، اعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي النُّحْلِ، كَمَا تُحِبُّونَ أَنْ يَعْدِلُوا بَيْنَكُمْ فِي الْبِرِّ وَاللُّطْفِ ".
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے لمبا قصہ سنا، انہوں نے آخر میں کہا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”میں اس پر گواہ نہیں بنتا، یہ ظلم ہے، اس پر کسی اور کو گواہ بنا لے اور اپنی اولاد کے درمیان عطیہ میں عدل کرو جس طرح تم پسند کرتے ہو کہ وہ نیکی میں تمہارے ساتھ عدل کریں۔“
حدیث نمبر: 12004
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا قَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ثنا أَزْهَرُ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: نَحَلَنِي أَبِي نِحْلَةً ثُمَّ أَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ بَنِيكَ أَعْطَيْتَهُ هَذَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " أَلَيْسَ تُرِيدُ مِنْهُمْ مِنَ الْبِرِّ مَا تُرِيدُ مِنْ هَذَا؟ " قَالَ: بَلَى، قَالَ: " فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ " قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثْتُهُ مُحَمَّدًا يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، فَقَالَ: إِنَّمَا تُحِدِّثْنَا أَنَّهُ قَالَ: " قَارِبُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ أَزْهَرَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ فَضَّلَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا بِنُحْلٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحَلَنِي جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ جَلَسَ فَاحْتَبَى ثُمَّ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، أَيْ بُنَيَّةُ، إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلِيَّ غِنًى بَعْدِي لَأَنْتِ، وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِي، فَوَدِدْتُ وَاللهِ أَنَّكِ كُنْتِ حُزْتِيهِ وَاجْتَدَدْتِيهِ، وَلَكِنْ إِنَّمَا هُوَ الْيَوْمُ مَالُ الْوَارِثِ، وَإِنَّمَا هُوَ أَخَوَاكِ وَأُخْتَاكِ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتَاهُ، هَذِهِ أَسْمَاءُ، فَمَنِ الْأُخْرَى؟ قَالَ: ذُو بَطْنِ ابْنَةِ خَارِجَةَ، أُرَاهَا جَارِيَةً، قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَوْ أَعْطَيْتَنِي مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا لَرَدَدْتُهُ إِلَيْكَ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَفَضَّلَ عُمَرُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بِشَيْءٍ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَفَضَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَدَ أُمِّ كُلْثُومٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے نبی ﷺ کے پاس لائے کہ آپ کو گواہ بنا لیں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے کہا: ”کیا تو ان سے نیکی کا ارادہ نہیں رکھتا جس طرح اس سے رکھتا ہے؟“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں گواہ نہیں بن سکتا،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی اولاد میں قربت اختیار کرو۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔
شیخ فرماتے ہیں: عروہ بن زبیر کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو بیٹھ گئے پھر گواہ بنایا، پھر کہا: اے پیاری بیٹی! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے اور کاٹ لے۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابا جان! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے؟ آپ نے کہا: خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ مجھے اس سے زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔
شیخ فرماتے ہیں: عروہ بن زبیر کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو بیٹھ گئے پھر گواہ بنایا، پھر کہا: اے پیاری بیٹی! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دی ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے اور کاٹ لے۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ابا جان! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے؟ آپ نے کہا: خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اگر آپ مجھے اس سے زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔
حدیث نمبر: 12005
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " قَطَعَ ثَلَاثَةَ أَرْؤُسٍ أَوْ أَرْبَعَةً لِبَعْضِ وَلَدِهِ دُونَ بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے منقول ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بعض اولاد کے لیے تین یا چار برابر حصے کیے۔
حدیث نمبر: 12006
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّهُ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عُمَرَ حَتَّى أَتَوْا رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَسَاوَمُوهُ بِأَرْضٍ لَهُ فَاشْتَرَاهَا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ أَنَّكَ اشْتَرَيْتَ أَرْضًا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: " فَإِنَّ هَذِهِ الْأَرْضَ لِابْنِي وَاقِدٍ؛ فَإِنَّهُ مِسْكِينٌ " نَحَلَهُ إِيَّاهَا دُونَ وَلَدِهِ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن انصاری رحمہ اللہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما انصار کے ایک آدمی کے پاس گئے، انہوں نے اس سے زمین کا سودا کیا اور اس سے خرید لیا، ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: ”میں نے دیکھا ہے کہ آپ نے زمین خریدی ہے اور اس کو صدقہ کیا ہے“، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”یہ زمین میرے بیٹے واقد کی ہے، وہ مسکین ہے، آپ نے اپنی دوسری اولاد کے علاوہ اس کو عطیہ دیا۔“
حدیث نمبر: 12007
قَالَ بُكَيْرٌ: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، أَنَّ أَبَاهُ كَانَ يَقْطَعُ وَلَدَهُ دُونَ بَعْضٍ، وَقَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ ذِي مَالٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ " قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: يَصْنَعُ بِهِ مَا شَاءَ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن منکدر رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مال والا اپنے مال کا زیادہ حق دار ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ نے کہا: وہ جو چاہے اس سے کرے۔