حدیث نمبر: 11994
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ الْخُوَارِزْمِيُّ الْحَافِظُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدَانَ، ثنا تَمِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً، فَقَالَتْ لَهُ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنَ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً، وَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَاتَّقُوا اللهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ "، قَالَ: فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَامِدِ بْنِ عُمَرَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ حُصَيْنٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عامر رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ منبر پر فرما رہے تھے کہ مجھے میرے والد نے عطیہ دیا، سیدہ عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں یہاں تک کہ تو رسول اللہ ﷺ کو گواہ بنا لے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نے عمرہ بنت رواحہ کے بیٹے کو غلام دیا ہے اور اس (عمرہ) نے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بنا لوں۔ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس طرح کا عطیہ دیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“ راوی کہتے ہیں: وہ واپس لوٹے اور اپنے عطیہ کو واپس لے لیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11994
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»