کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مطلق احادیث میں وارد ہونے والے عمریٰ اور رقبیٰ کی تفسیر کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 11990
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: " تَأْوِيلُ الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرَكَ، أَوْ يَقُولَ لَهُ: هَذِهِ الدَّارُ لَكَ عُمُرِي " قَالَ: وَقَدْ حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي تَفْسِيرِ الْعُمْرَى بِمِثْلِ ذَلِكَ أَوْ نَحْوِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «عُمْرٰی» کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے آدمی سے کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک تو زندہ رہے یا یہ کہے کہ یہ گھر تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ عطاء رحمہ اللہ سے بھی «عُمْرٰی» کی تفسیر کے بارے میں اسی طرح منقول ہے۔
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «رُقْبٰی» کے بارے میں ابوزبیر رحمہ اللہ نے کہا: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ آدمی کہے: اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ میری طرف لوٹ آئے گا اور اگر میں تجھ سے پہلے فوت ہو گیا تو یہ تیرا ہے۔
قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: «رُقْبٰی» یہ ہے کہ کوئی کہے: یہ فلاں کے لیے ہے، اگر وہ فوت ہو گیا تو فلاں کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11990
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
حدیث نمبر: 11991
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: " الْعُمْرَى أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: هُوَ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ فَهُوَ لَهُ وَلِوَرَثَتِهِ، وَالرُّقْبَى أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ: هُوَ لِآخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنِّي وَمِنْكَ " قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ يَذْهَبُ فِي الْقَدِيمِ إِلَى ظَاهِرِ مَا رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهُوَ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنْ جَعَلَهَا لَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ عَقِبَهُ، قَالَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: هِيَ بَاطِلَةٌ، وَقَالَ فِي مَوْضِعٍ: إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ رَجَعَتْ إِلَى الْمُعْمِرِ، ثُمَّ ذَهَبَ فِي الْجَدِيدِ إِلَى سَائِرِ الرِّوَايَاتِ الَّتِي دَلَّتْ عَلَى أَنَّهُ إِذَا جَعَلَهَا لَهُ حَيَاتَهُ وَسَلَّمَهَا إِلَيْهِ كَانَتْ لَهُ وَلِعَقِبِهِ، وَهَذَا هُوَ الْمَذْهَبُ، وَكَذَلِكَ فِي الرُّقْبَى.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عمریٰ یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے سے کہے: وہ تیرا ہے جب تک میں زندہ ہوں۔ جب اسی طرح کہے تو وہ اس کا اور اس کے وارثوں کا ہو جائے گا اور رقبیٰ یہ ہے کہ آدمی کہے: وہ دونوں میں سے بعد میں فوت ہونے والے کا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمہ اللہ کا قدیم مذہب یہ ہے کہ وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دے۔ اگر اس نے ورثاء کا ذکر نہ کیا تو ایک جگہ پر کہا کہ یہ باطل ہے اور دوسری جگہ پر کہا: جب معمر فوت ہو جائے تو واپس معمر کی طرف لوٹ آئے گا، پھر ان کا جدید مذہب یہ ہے کہ جب اس نے اس کی زندگی میں دے دیا اور اس کے سپرد کر دیا تو وہ اس کا اور اس کے ورثاء کا ہو گا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الهبات / حدیث: 11991
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابوداود 3560»