السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
جماع أبواب عطية الرجل ولده -- باب: السنة في التسوية بين الأولاد في العطية باب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّرَابَرْدِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي مِنْ مَالِهِ، فَالْتَوَى بِهَا سَنَةً، ثُمَّ بَدَا لَهُ فَوَهَبَهَا لِي، ⦗٢٩٣⦘ وَإِنَّهَا قَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَا وَهَبْتَ لِابْنِي، فَأَخَذَ بِيَدِي وَأَنَا يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ، فَأَتَى بِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ قَاتَلَتْنِي مُنْذُ سَنَةٍ عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لِابْنِي هَذَا، وَقَدْ بَدَا لِي فَوَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ نُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: فَقَالَ: " يَا بَشِيرُ، ألَكَ وَلَدٌ سِوَى وَلَدِكَ هَذَا؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تُشْهِدْنِي "، أَوْ قَالَ: " لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: " فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ ".سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میری ماں نے میرے باپ سے اپنے مال میں سے کچھ میرے لیے ہبہ کرنے کا سوال کیا، ایک سال تک اس نے نہ کیا۔ پھر والد نے میرے لیے ہبہ کیا، میری ماں نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں، یہاں تک کہ تو رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ بنا لے جو تو نے میرے بیٹے کو ہبہ کیا ہے۔ پس باپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں اس وقت بچہ تھا اور وہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آئے، کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کی ماں رواحہ کی بیٹی ہے، ایک سال سے وہ مجھ سے اسے ہبہ کرنے کے بارے میں لڑائی کر رہی تھی، پس اب میں نے ہبہ کر دیا اور اس کو پسند ہے کہ آپ ﷺ اس پر گواہ بن جائیں، آپ ﷺ نے کہا: ”اے بشیر! کیا تیری اس کے علاوہ اور بھی اولاد ہے؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو مجھے گواہ نہ بنا، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“