السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الهبات— ہبہ کا بیان
جماع أبواب عطية الرجل ولده -- باب: السنة في التسوية بين الأولاد في العطية باب: انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ دینے کے تمام ابواب کا مجموعہ -- باب: عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری کرنے کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 11997
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةُ بَشِيرٍ: انْحَلِ ابْنِي غُلَامَكَ، وَأَشْهِدْ عَلَيْهِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَةَ فُلَانٍ سَأَلَتْنِي أَنْ أَنْحَلَ ابْنَهَا غُلَامِيَ وَقَالَتْ: أَشْهِدْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَلَهُ أُخْوَةٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " فَكُلَّهُمْ أَعْطَيْتَ مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَهُ؟ " قَالَ: لَا، قَالَ: " فَلَيْسَ يَصْلُحُ هَذَا، وَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بشیر کی بیوی نے کہا: میرے بیٹے کو عطیہ دے اور رسول اللہ ﷺ کو اس پر گواہ مقرر کر۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور کہا: فلاں کی بیٹی مجھ سے سوال کرتی ہے کہ میں اس کے بیٹے کو عطیہ دوں اور کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو گواہ بناؤ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس کے اور بھی بھائی ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو نے سب کو عطیہ دیا ہے، جس طرح اسے دیا ہے؟“ اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ صحیح نہیں ہے اور نہ میں ظلم پر گواہ بنتا ہوں۔“
ایک روایت کے الفاظ ہیں: ”میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں۔“