❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " الشُّفْعَةُ عَلَى قَدْرِ الْأَنْصِبَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شفعہ حصوں کے بقدر ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11603
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ لَهُ شُرَكَاءُ فِي دَارٍ، فَيُسَلِّمُ لَهُ الشُّرَكَاءُ الشُّفْعَةَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ حَقِّهِ مِنَ الشُّفْعَةِ، قَالُوا: " لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ، إِمَّا أَنْ يَأْخُذَهَا جَمِيعًا، وَإِمَّا أَنْ يَتْرُكَهَا جَمِيعًا " وَكَانُوا يَقُولُونَ فِي النَّفَرِ يَرِثُونَ مِنْ أَبِيهِمْ مَالًا فَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَيَتْرُكُ وَلَدًا، فَيَبِيعُ أَحَدُ وَلَدِهِ حَقَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَالِ، فَالْوَلَدُ وَأَعْمَامُهُ شُرَكَاؤُهُ فِي الشُّفْعَةِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِهِمْ، إِذَا كَانَ الْمَالُ لَمْ يُقْسَمْ وَتَقَعُ فِيهِ الْحُدُودُ وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَزْمِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَضَى بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
اہلِ مدینہ کے ان فقہاء سے، جن کے قول پر بات ختم ہوتی تھی، ایسے آدمی کے بارے میں منقول ہے جس کے ایک گھر میں کئی شریک ہوں اور ایک آدمی کے سوا سارے شریک اس کے لیے شفعہ تسلیم کر لیں اور وہ ایک آدمی شفعہ میں سے صرف اپنے حق کے بقدر لینا چاہے، فرماتے ہیں: اسے یہ حق نہیں ہے، یا تو وہ سارا لے یا سارا چھوڑ دے؛ اور وہ اس گروہ کے بارے میں کہتے تھے جو اپنے باپ سے مال کے وارث بنے ہوں، پھر ان میں سے ایک فوت ہو جائے اور اولاد چھوڑ جائے، پھر اس کی اولاد میں سے کوئی اس مال میں سے اپنا حق بیچ دے، تو وہ اولاد اور اس کے چچے اپنے اپنے حصوں کے بقدر شفعہ میں شریک ہوں گے، جب تک مال تقسیم نہ ہوا ہو اور اس میں حدود واقع نہ ہوئی ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11604
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ، وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: لَوْ أَقْدِرُ لَكُمَا عَلَى أَمْرٍ أَنْفَعُكُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللهِ، أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فأُسَلِّفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ فَتَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَكُونُ لَكُمَا الرِّبْحُ، فَقَالَا: وَدِدْنَا، فَفَعَلَا، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْخُذُ مِنْهُمَا الْمَالَ، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ بَاعَا وَرَبِحَا، فَلَمَّا رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَكُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ كَمَا أَسْلَفَكُمَا؟ " قَالَا: لَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَكُمَا، أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ " فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَسَلَّمَ، وَأَمَّا عُبَيْدُ اللهِ فَقَالَ: لَا يَنْبَغِي لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا لَوْ هَلَكَ الْمَالُ أَوْ نَقَصَ لَضَمِنَّاهُ، قَالَ: " أَدِّيَاهُ "، فَسَكَتَ عَبْدُ اللهِ، وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا، فَقَالَ: " قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا "، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَالَ وَنِصْفَ رِبْحِهِ، وَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ مَعْنَى حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى عَامِلٍ لِعُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے سیدنا عبداللہ اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہما عراق کے لشکر میں گئے۔ جب وہ واپس آئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کو مرحبا کہا اور ان کی آؤ بھگت کی۔ ان دنوں وہ بصرہ کے گورنر تھے، انہوں نے کہا: اگر میں تم کو نفع پہنچا سکتا تو ضرور کرتا، پھر کہا: ہاں، یہاں پر اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کچھ مال ہے، میں چاہتا ہوں کہ امیر المومنین (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو بھیج دوں۔ میں تم دونوں کو قرض کے طور پر دے دیتا ہوں، اس کے ساتھ عراق سے سامان خریدو، اسے مدینہ میں بیچ دینا، پھر اصل مال امیر المومنین کو دے دینا اور نفع رکھ لینا۔ ان دونوں نے ایسا ہی کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا کہ ان سے مال وصول کر لینا؛ پس جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے سامان بیچا اور نفع حاصل کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو پوچھا: کیا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سارے لشکر کو تمہاری طرح قرض دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو اس لیے دیا کہ تم امیر المومنین کے بیٹے ہو۔ پس مال بھی ادا کرو اور نفع بھی دے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تسلیم کر لیا، لیکن سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، اگر مال ہلاک ہو جاتا یا کم ہو جاتا تو ہم ضامن بھی تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ادا کرو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو خاموش رہے اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی بات کہی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ اسے قراض (مضاربت) بنا لیں؛ پھر فرمایا: میں نے اسے قراض (مضاربت) بنا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال اور نصف نفع حاصل کیا اور دونوں بیٹوں نے نصف نفع لے لیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: جب وہ واپس ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنر کے پاس سے گزرے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11605
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 1396»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، " أَنَّهُ عَمِلَ فِي مَالٍ لِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنَهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مال سے اس شرط پر کام کیا کہ نفع میں دونوں مستحق ہوں گے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11606
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ ⦗١٨٤⦘ أَنَسٍ، أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: جِئْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقُلْتُ لَهُ: قَدْ قَدِمَتْ سِلْعَةٌ فَهَلْ لَكَ أَنْ تُعْطِيَنِي مَالًا فَأَشْتَرِي بِذَلِكَ؟ فَقَالَ: " أَتُرَاكَ فَاعِلًا؟ " قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنِّي رَجُلٌ مُكَاتَبٌ؛ فَأَشْتَرِيهَا عَلَى أَنَّ الرِّبْحَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، قَالَ: " نَعَمْ "، فَأَعْطَانِي مَالًا عَلَى ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
علاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ میں نے ان سے کہا: سامان آیا ہے، آپ مجھے مال دیں، میں اسے خرید لوں۔ انہوں نے کہا: آپ ایسا کر لیں گے؟ اس نے کہا: ہاں، لیکن میں ایک مکاتب آدمی ہوں، پس میں اسے اس شرط پر خریدوں گا کہ نفع میں، میں اور آپ شریک ہوں گے۔ اس نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے اس شرط پر مال دیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11607
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ يَكُونُ عِنْدَهُ مَالُ الْيَتِيمِ فَيُزَكِّيهِ، وَيُعْطِيهِ مُضَارَبَةً، وَيَسْتَقْرِضُ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یتیم کا مال تھا، وہ اس کی زکاۃ دیتے تھے اور اسے مضاربت پر دیتے تھے اور اس میں سے قرض لیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11608
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ يُعْطِي الْمَالَ قِرَاضًا فَيَشْتَرِطُ لَهُ كَمَا أَعْطَاهُ نَحْوَ يَوْمِ يَأْخُذُهُ، قَالَ: " لَا بَأْسَ بِذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو کسی کو قراض (مضاربت) کے طور پر مال دیتا ہے اور یہ شرط لگاتا ہے کہ جس دن وہ اسے واپس لے گا اس کے قریب اسے ویسا ہی ملے گا جیسا اس نے دیا تھا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11609
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدٌ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَسَدِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّهُ كَانَ يَدْفَعُ الْمَالَ مُقَارَضَةً إِلَى الرَّجُلِ وَيَشْتَرِطُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَمُرَّ بِهِ بَطْنَ وَادٍ، وَلَا يَبْتَاعَ بِهِ حَيَوَانًا، وَلَا يَحْمِلَهُ فِي بَحْرٍ، فَإِنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ ضَمِنَ ذَلِكَ الْمَالَ، قَالَ: " فَإِذَا تَعَدَّى أَمْرَهُ ضَمِنَهُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ " وَقَدْ رُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ مُسْنَدٌ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ کسی آدمی کو قراض (مضاربت) کے طور پر مال دیتے تھے اور شرط لگاتے تھے کہ وہ مال کے ساتھ کسی وادی سے نہ گزرے گا، اور نہ کوئی حیوان خریدے گا، اور نہ سمندر میں لے کر جائے گا؛ اگر اس نے ان کاموں میں سے کوئی کام کیا تو وہ مال کا ضامن ہوگا، فرمایا: جب اس نے حد سے تجاوز کیا تو جو اس نے کیا وہ اس کا ضامن ہوگا۔
اس بارے میں ایک ضعیف مسند حدیث بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11610
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ السَّدُوسِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ أَبُو أَرْقَمَ، ثنا أَبُو الْجَارُودِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِذَا دَفَعَ مَالًا مُضَارَبَةً اشْتَرَطَ عَلَى صَاحِبِهِ أَنْ لَا يَسْلُكَ بِهِ بَحْرًا، وَلَا يَنْزِلَ بِهِ وَادِيًا، وَلَا يَشْتَرِيَ بِهِ ذَاتَ كَبِدٍ رَطْبَةٍ، فَإِنْ فَعَلَ فَهُوَ ضَامِنٌ، فَرَفَعَ شَرْطَهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجَازَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب کسی کو مضاربت پر مال دیتے تو شرط لگاتے کہ وہ مال لے کر سمندر میں نہیں جائے گا اور نہ کسی وادی میں اترے گا اور نہ کوئی جاندار خریدے گا۔ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ ضامن ہو گا۔ یہ شرط رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11611
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا مِشْجَعُ بْنُ مُصْعَبٍ أَبُو الْحَكَمِ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ الْكِنْدِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ. تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الْجَارُودِ زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ كُوفِيٌّ ضَعِيفٌ كَذَّبَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ الْبَاقُونَ.
حافظ ثناء اللہ
یونس بن ارقم کندی رحمہ اللہ نے پچھلی حدیث کی طرح روایت کیا ہے۔
اسے روایت کرنے میں ابو الجارود زیاد بن منذر منفرد ہے، وہ کوفی ضعیف راوی ہے، یحییٰ بن معین نے اسے جھوٹا کہا ہے اور باقی ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11612
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»