أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ لَهُ شُرَكَاءُ فِي دَارٍ، فَيُسَلِّمُ لَهُ الشُّرَكَاءُ الشُّفْعَةَ إِلَّا رَجُلًا وَاحِدًا أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ حَقِّهِ مِنَ الشُّفْعَةِ، قَالُوا: " لَيْسَ ذَلِكَ لَهُ، إِمَّا أَنْ يَأْخُذَهَا جَمِيعًا، وَإِمَّا أَنْ يَتْرُكَهَا جَمِيعًا " وَكَانُوا يَقُولُونَ فِي النَّفَرِ يَرِثُونَ مِنْ أَبِيهِمْ مَالًا فَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَيَتْرُكُ وَلَدًا، فَيَبِيعُ أَحَدُ وَلَدِهِ حَقَّهُ مِنْ ذَلِكَ الْمَالِ، فَالْوَلَدُ وَأَعْمَامُهُ شُرَكَاؤُهُ فِي الشُّفْعَةِ عَلَى قَدْرِ حِصَصِهِمْ، إِذَا كَانَ الْمَالُ لَمْ يُقْسَمْ وَتَقَعُ فِيهِ الْحُدُودُ وَذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ الْحَزْمِيِّ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَضَى بِذَلِكَ.اہلِ مدینہ کے ان فقہاء سے، جن کے قول پر بات ختم ہوتی تھی، ایسے آدمی کے بارے میں منقول ہے جس کے ایک گھر میں کئی شریک ہوں اور ایک آدمی کے سوا سارے شریک اس کے لیے شفعہ تسلیم کر لیں اور وہ ایک آدمی شفعہ میں سے صرف اپنے حق کے بقدر لینا چاہے، فرماتے ہیں: اسے یہ حق نہیں ہے، یا تو وہ سارا لے یا سارا چھوڑ دے؛ اور وہ اس گروہ کے بارے میں کہتے تھے جو اپنے باپ سے مال کے وارث بنے ہوں، پھر ان میں سے ایک فوت ہو جائے اور اولاد چھوڑ جائے، پھر اس کی اولاد میں سے کوئی اس مال میں سے اپنا حق بیچ دے، تو وہ اولاد اور اس کے چچے اپنے اپنے حصوں کے بقدر شفعہ میں شریک ہوں گے، جب تک مال تقسیم نہ ہوا ہو اور اس میں حدود واقع نہ ہوئی ہوں۔