کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مضارب کا ایسی مخالفت کرنا جس میں مالک کا فائدہ ہو، اور اس شخص کا بیان جو کسی دوسرے کے مال سے اس کے حکم کے بغیر تجارت کرے۔
حدیث نمبر: 11613
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ شَبِيبِ بْنِ غَرْقَدَةَ، سَمِعَ قَوْمَهُ يُحَدِّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ شَاةً أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَى بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ وَدِينَارٍ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، فَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ رَبِحَ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ قربانی کی بکری خرید کر لائیں۔ انہوں نے ایک دینار سے دو بکریاں خریدیں۔ اب ان میں سے ایک بکری ایک دینار کی بیچ دی اور نبی کریم ﷺ کے پاس ایک بکری اور ایک دینار لے کر آگئے۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر اگر وہ مٹی بھی خریدتے تو اس میں بھی انہیں نفع مل جاتا۔
حدیث نمبر: 11614
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ح وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ، ثنا سُفْيَانُ، سَمِعَ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ، عَنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " هَذَانِ حَدِيثَانِ سَمِعَ أَحَدَهُمَا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، وَلَمْ يَسْمَعِ الْآخَرَ وَإِنَّمَا سَمِعَ الْحِيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”بھلائی قیامت تک گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ باندھ دی گئی ہے۔“
حدیث نمبر: 11615
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ شَاكِرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْبُخَارِيَّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا شَبِيبُ بْنُ غَرْقَدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحِيَّ يَتَحَدَّثُونَ عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ شَاةً، فَاشْتَرَى لَهُ بِهِ شَاتَيْنِ، فَبَاعَ إِحْدَاهُمَا بِدِينَارٍ، فَجَاءَهُ بِدِينَارٍ وَشَاةٍ، فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ فِي بَيْعِهِ، وَكَانَ لَوِ اشْتَرَى التُّرَابَ لَرَبِحَ فِيهِ " ⦗١٨٦⦘ قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ جَاءَنَا بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْهُ قَالَ: سَمِعَهُ شَبِيبُ مِنْ عُرْوَةَ، فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ شَبِيبٌ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، سَمِعْتُ الْحِيَّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخَيْرُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِي الْخَيْلِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ: وَقَدْ رَأَيْتُ فِي دَارِهِ سَبْعِينَ فَرَسًا، قَالَ سُفْيَانُ: يَشْتَرِي لَهُ شَاةً كَأَنَّهَا أُضْحِيَّةٌ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے منقول ہے (اور اس میں وہی حدیث نمبر ١١٦١٣ والا ترجمہ ہے کہ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو برے لوگوں کو اپنے قریب کریں گے اور نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کر دیں گے، پس تم میں سے جو شخص ان کا زمانہ پائے وہ ہرگز ان کا عریف (کارندہ)، نہ پولیس والا، نہ ٹیکس وصول کرنے والا اور نہ ہی خزانچی بنے۔“
حدیث نمبر: 11616
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ فِي حَدِيثِ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ دِينَارًا لِيَشْتَرِيَ لَهُ بِهِ أُضْحِيَّةً، قَالَ: " قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُهُ فَيَقُولُ فِيهِ: سَمِعْتُ شَبِيبًا يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ، فَلَمَّا سَأَلْتُ شَبِيبًا قَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ، وَحَدَّثَنِيهِ الْحِيُّ عَنْ عُرْوَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوبکر حمیدی رحمہ اللہ عروہ رضی اللہ عنہ والی حدیث میں فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں ایک دینار دیا تاکہ وہ ایک بکری خرید لائیں۔
حدیث نمبر: 11617
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ الرَّقِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْعَتَكِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْبَارِقِيِّ قَالَ: أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا فَقَالَ: " اشْتَرِ لَنَا بِهِ شَاةً "، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَاشْتَرَيْتُ شَاتَيْنِ بِدِينَارٍ، فَلَقِيَنِي رَجُلٌ فِي الطَّرِيقِ فَسَاوَمَنِي بِشَاةٍ فَبِعْتُهَا بِدِينَارٍ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا دِينَارُكُمْ، وَهَذِهِ شَاتُكُمْ، قَالَ: فَقَالُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَصَنَعْتَ كَيْفَ؟ " قَالَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: " اللهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ "، قَالَ: فَقَالَ إِنِّي لَأَقُومُ فِي الْكُنَاسَةِ بِالْكُوفَةِ، فَمَا أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي حَتَّى أَرْبَحَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن ابی جعد بارقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک دینار دیا اور فرمایا: ”ہمارے لیے ایک بکری خرید لاؤ۔“ فرماتے ہیں: میں گیا، میں نے ایک دینار سے دو بکریاں خرید لیں۔ مجھے ایک آدمی راستے میں ملا، اس نے مجھ سے ایک بکری کا سودا کیا۔ میں نبی ﷺ کے پاس آیا، میں نے عرض کیا: یہ آپ کا دینار اور یہ آپ کی بکری۔ نبی ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیسے کیا؟“ آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي بَيْعِهِ» ”اے اللہ! اس کے سودے میں برکت ڈال۔“ عروہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں کوفہ کے کوڑے کے ڈھیر پر کھڑا ہو جاتا اور جب تک چالیس ہزار نفع نہ کما لیتا اس وقت تک گھر نہ آتا تھا۔
حدیث نمبر: 11618
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي أَبُو حَصِينٍ، عَنْ شَيْخٍ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " بَعَثَ مَعَهُ بِدِينَارٍ يَشْتَرِي لَهُ أُضْحِيَّةً، فَاشْتَرَاهَا بِدِينَارٍ وَبَاعَهَا بِدِينَارَيْنِ، فَرَجَعَ فَاشْتَرَى أُضْحِيَّةً بِدِينَارٍ وَجَاءَ بِدِينَارٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَعَا لَهُ أَنْ يُبَارَكَ لَهُ فِي تِجَارَتِهِ " وَحَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ ابْنَيْهِ قَدْ مَضَى فِي الْبَابِ الْأَوَّلِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے ایک دینار دے کر بھیجا تاکہ وہ ایک بکری خرید کر لائے، اس نے ایک دینار کی بکری خریدی اور دو دینار میں بیچ دی، پھر واپس پلٹا اور ایک دینار کی بکری خریدی اور ایک دینار نبی ﷺ کو دے دیا، آپ ﷺ نے ایک دینار صدقہ کر دیا اور اس کے لیے تجارت میں برکت کی دعا کی۔
حدیث نمبر: 11619
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ اسْتَبْضَعَ بِضَاعَةً فَخَالَفَ فِيهَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " هُوَ ضَامِنٌ، وَإِنْ رَبِحَ فَالرِّبْحُ لِصَاحِبِ الْمَالِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی کے سامان سے تجارت کی اور اس نے مخالفت کی، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ اس کا ضامن ہے اور اگر نفع ملا ہے تو نفع مال والے کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 11620
وَهُوَ فِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ، عَنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ رِيَاحِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ: بَعَثَ رَجُلٌ مَعَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ بِعَشَرَةِ دَنَانِيرَ إِلَى رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ، فَابْتَاعَ بِهَا الْمَبْعُوثُ مَعَهُ بَعِيرًا، ثُمَّ بَاعَهُ بِأَحَدَ عَشَرَ دِينَارًا، فَسَأَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: " الْأَحَدَ عَشَرَ لِصَاحِبِ الْمَالِ، وَلَوْ حَدَثَ بِالْبَعِيرِ حَدَثٌ كُنْتَ لَهُ ضَامِنًا " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَابْنُ عُمَرَ يَرَى عَلَى الْمُشْتَرِي بِالْبِضَاعَةِ لِغَيْرِهِ الضَّمَانَ، وَيَرَى الرِّبْحَ لِصَاحِبِ الْبِضَاعَةِ، وَلَا يَجْعَلُ الرِّبْحَ لِمَنْ ضَمِنَ قَالَ الرَّبِيعُ: آخِرُ قَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ إِذَا تَعَدَّى فَاشْتَرَى شَيْئًا بِالْمَالِ بِعَيْنِهِ فَرَبِحَ فِيهِ فَالشِّرَاءُ بَاطِلٌ، وَإِنِ اشْتَرَى بِمَالٍ لَا بِعَيْنِهِ ثُمَّ نَقَدَ الْمَالَ فَالشِّرَاءُ لَهُ وَالرِّبْحُ لَهُ وَالنُّقْصَانُ عَلَيْهِ، وَهُوَ ضَامِنٌ لِلْمَالِ، وَكَذَلِكَ نَقَلَهُ الْمُزَنِيُّ ثُمَّ قَالَ: وَاحْتَجَّ بِأَنَّ حَدِيثَ الْبَارِقِيِّ لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَهُ قَالَ الشَّيْخُ: وَذَلِكَ لِمَا فِي إِسْنَادِهِ مِنَ الْإِرْسَالِ، وَهُوَ أَنَّ شَبِيبَ بْنَ غَرْقَدَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ عُرْوَةَ الْبَارِقِيِّ، إِنَّمَا سَمِعَهُ مِنَ الْحِيِّ يُخْبِرُونَهُ عَنْهُ، وَحَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ حَرَامٍ أَيْضًا عَنْ شَيْخٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْهُ، وَأَوَّلَ الْمُزَنِيُّ حَدِيثَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَعَ ابْنَيْهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بِأَنَّهُ سَأَلَهُمَا لِبِرِّهِ الْوَاجِبِ عَلَيْهِمَا أَنْ يَجْعَلَا رِبْحَهُ كُلَّهُ لِلْمُسْلِمِينَ، فَلَمْ يُجِيبَاهُ، فَلَمَّا طَلَبَ النِّصْفَ أَجَابَاهُ عَنْ طِيبِ أَنْفُسِهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا رباح بن عبیدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے بصرہ والوں میں سے کسی آدمی کو دس دینار دے کر مدینہ میں ایک آدمی کی طرف بھیجا، اس نے اس سے اونٹ خریدا، پھر اس کو گیارہ دینار کے بدلے بیچ دیا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ گیارہ دینار مال والے کے ہیں اور اگر اونٹ کو کچھ ہوجاتا تو وہ اس کا ضامن تھا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سامان خریدنے والے کو ضامن خیال کرتے تھے اور نفع اصل مالک کے لیے سمجھتے تھے اور نفع سامان خریدنے والے کے لیے جائز نہ سمجھتے تھے۔ ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول یہ ہے کہ جب وہ حد سے بڑھے اور مال کے ساتھ کوئی چیز خرید لے، نقد اس سے نفع بھی حاصل کرلے تو وہ خرید باطل ہے اور اگر کوئی ایسی چیز خرید لے جو عین (نقد) نہ ہو، پھر مال گم ہوجائے تو خریدنا، نفع اور نقصان سب کا ذمہ دار وہی ہے اور وہی مال کا ضامن ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹوں سے سوال کرنا اس لیے تھا کہ وہ نفع کو سب مسلمانوں کے لیے عام رکھیں، پس انہوں نے قبول نہ کیا، جب نصف طلب کیا تو انہوں نے خوشی سے قبول کرلیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سامان خریدنے والے کو ضامن خیال کرتے تھے اور نفع اصل مالک کے لیے سمجھتے تھے اور نفع سامان خریدنے والے کے لیے جائز نہ سمجھتے تھے۔ ربیع کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا آخری قول یہ ہے کہ جب وہ حد سے بڑھے اور مال کے ساتھ کوئی چیز خرید لے، نقد اس سے نفع بھی حاصل کرلے تو وہ خرید باطل ہے اور اگر کوئی ایسی چیز خرید لے جو عین (نقد) نہ ہو، پھر مال گم ہوجائے تو خریدنا، نفع اور نقصان سب کا ذمہ دار وہی ہے اور وہی مال کا ضامن ہے۔ شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اپنے بیٹوں سے سوال کرنا اس لیے تھا کہ وہ نفع کو سب مسلمانوں کے لیے عام رکھیں، پس انہوں نے قبول نہ کیا، جب نصف طلب کیا تو انہوں نے خوشی سے قبول کرلیا۔