حدیث نمبر: 11605
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ ابْنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي جَيْشٍ إِلَى الْعِرَاقِ، فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، فَرَحَّبَ بِهِمَا وَسَهَّلَ، وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ، فَقَالَ: لَوْ أَقْدِرُ لَكُمَا عَلَى أَمْرٍ أَنْفَعُكُمَا بِهِ لَفَعَلْتُ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى، هَاهُنَا مَالٌ مِنْ مَالِ اللهِ، أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَ بِهِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فأُسَلِّفُكُمَاهُ فَتَبْتَاعَانِ بِهِ مَتَاعًا مِنْ مَتَاعِ الْعِرَاقِ فَتَبِيعَانِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَتُؤَدِّيَانِ رَأْسَ الْمَالِ إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَيَكُونُ لَكُمَا الرِّبْحُ، فَقَالَا: وَدِدْنَا، فَفَعَلَا، فَكَتَبَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَأْخُذُ مِنْهُمَا الْمَالَ، فَلَمَّا قَدِمَا الْمَدِينَةَ بَاعَا وَرَبِحَا، فَلَمَّا رَفَعَا ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَكُلُّ الْجَيْشِ أَسْلَفَهُ كَمَا أَسْلَفَكُمَا؟ " قَالَا: لَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ابْنَا أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَسْلَفَكُمَا، أَدِّيَا الْمَالَ وَرِبْحَهُ " فَأَمَّا عَبْدُ اللهِ فَسَلَّمَ، وَأَمَّا عُبَيْدُ اللهِ فَقَالَ: لَا يَنْبَغِي لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا لَوْ هَلَكَ الْمَالُ أَوْ نَقَصَ لَضَمِنَّاهُ، قَالَ: " أَدِّيَاهُ "، فَسَكَتَ عَبْدُ اللهِ، وَرَاجَعَهُ عُبَيْدُ اللهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَاءِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ جَعَلْتَهُ قِرَاضًا، فَقَالَ: " قَدْ جَعَلْتُهُ قِرَاضًا "، فَأَخَذَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَالَ وَنِصْفَ رِبْحِهِ، وَأَخَذَ عَبْدُ اللهِ وَعُبَيْدُ اللهِ نِصْفَ رِبْحِ الْمَالِ مَعْنَى حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ، إِلَّا أَنَّ الشَّافِعِيَّ قَالَ فِي رِوَايَتِهِ: فَلَمَّا قَفَلَا مَرَّا عَلَى عَامِلٍ لِعُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا زید بن اسلم رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے سیدنا عبداللہ اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہما عراق کے لشکر میں گئے۔ جب وہ واپس آئے تو سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان کو مرحبا کہا اور ان کی آؤ بھگت کی۔ ان دنوں وہ بصرہ کے گورنر تھے، انہوں نے کہا: اگر میں تم کو نفع پہنچا سکتا تو ضرور کرتا، پھر کہا: ہاں، یہاں پر اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کچھ مال ہے، میں چاہتا ہوں کہ امیر المومنین (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) کو بھیج دوں۔ میں تم دونوں کو قرض کے طور پر دے دیتا ہوں، اس کے ساتھ عراق سے سامان خریدو، اسے مدینہ میں بیچ دینا، پھر اصل مال امیر المومنین کو دے دینا اور نفع رکھ لینا۔ ان دونوں نے ایسا ہی کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا گیا کہ ان سے مال وصول کر لینا؛ پس جب وہ مدینہ آئے تو انہوں نے سامان بیچا اور نفع حاصل کیا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو پوچھا: کیا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سارے لشکر کو تمہاری طرح قرض دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کو اس لیے دیا کہ تم امیر المومنین کے بیٹے ہو۔ پس مال بھی ادا کرو اور نفع بھی دے دو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تسلیم کر لیا، لیکن سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، اگر مال ہلاک ہو جاتا یا کم ہو جاتا تو ہم ضامن بھی تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ادا کرو۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ تو خاموش رہے اور سیدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے پھر وہی بات کہی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہم نشینوں میں سے کسی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ اسے قرض بنا لیں؛ پھر فرمایا: میں نے اسے قرض بنا لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مال اور نصف نفع حاصل کیا اور دونوں بیٹوں نے نصف نفع لے لیا۔ ایک روایت کے الفاظ ہیں: جب وہ واپس ہوئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے گورنر کے پاس سے گزرے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشفعة / حدیث: 11605
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك 1396»