أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، إِمْلَاءً، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خُطْبَتِهِ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ زُهَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم قیمت نہ بڑھاؤ، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے، اور کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے، اور نہ اپنے بھائی کی شادی کے پیغام پر پیغام بھیجے۔“
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " نُهِيَ أَنْ يَبِيعَ مُهَاجِرٌ لِأَعْرَابِيٍّ " وَقَدْ مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر نہ ملو اور کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور (دھوکے سے) قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت کرے اور اونٹوں اور بکریوں کا دودھ تھنوں میں روک کر نہ بیچو۔ اگر کوئی ایسا جانور خریدے (جس کا دودھ کئی وقت نہ نکالا گیا ہو) تو دودھ دوہنے کے بعد دو باتوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔ اگر جانور پسند ہے تو رکھ لے، بصورتِ دیگر جانور لوٹا دے اور ایک صاع کھجور بھی دے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ ”مہاجر کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ ”مہاجر کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " قَالَ: قُلْتُ: مَا لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: " لَا تَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: " نُهِينَا أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ "، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَوْنٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں منع کیا گیا کہ ”کوئی شہری دیہاتی کا دلال بنے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے، اگرچہ وہ اس کا بھائی یا والد ہی کیوں نہ ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، إِمْلَاءً، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو خَيْثَمَةَ، ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ دَعُوا النَّاسَ يُرْزَقْ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَحْمَدَ بْنِ يُونُسَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے، لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑو، ان کے بعض کو بعض سے رزق دیا جاتا ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِمَّا يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ الشَّافِعِيِّ، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“
یہ حدیث اس سند کے ساتھ امام شافعی کی امام مالک سے منفرد روایات میں شمار کی جاتی ہے۔
یہ حدیث اس سند کے ساتھ امام شافعی کی امام مالک سے منفرد روایات میں شمار کی جاتی ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاضِي أَبُو نَصْرٍ شُعَيْبُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مَسَانِيدُ لَمْ يُودِعْهَا الْمُوطَّأَ رَوَاهَا عَنْهُ الْأَكَابِرُ مِنْ أَصْحَابِهِ خَارِجَ الْمُوطَّأِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے (دوسری سند سے) اسی طرح ذکر کیا ہے۔
اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے بھی اپنے والد سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ امام مالک بن انس کی کچھ مسند روایات ایسی ہیں جنہیں انہوں نے مؤطا میں درج نہیں کیا، ان کے بڑے شاگردوں نے انہیں مؤطا سے باہر ان سے روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔
اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے بھی اپنے والد سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ امام مالک بن انس کی کچھ مسند روایات ایسی ہیں جنہیں انہوں نے مؤطا میں درج نہیں کیا، ان کے بڑے شاگردوں نے انہیں مؤطا سے باہر ان سے روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔