السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع حاضر لباد باب: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے“۔
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يُتَلَقَّى الرُّكْبَانُ لِلْبَيْعِ، وَلَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنِ ابْتَاعَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْلُبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا، وَإنْ سَخِطَهَا رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ "، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " نُهِيَ أَنْ يَبِيعَ مُهَاجِرٌ لِأَعْرَابِيٍّ " وَقَدْ مَضَى.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ”تم تجارتی قافلوں کو شہر سے باہر نہ ملو اور کوئی شخص کسی کے سودے پر سودا نہ کرے اور (دھوکے سے) قیمت نہ بڑھاؤ اور نہ کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت کرے اور اونٹوں اور بکریوں کا دودھ تھنوں میں روک کر نہ بیچو۔ اگر کوئی ایسا جانور خریدے (جس کا دودھ کئی وقت نہ نکالا گیا ہو) تو دودھ دوہنے کے بعد دو باتوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرے۔ اگر جانور پسند ہے تو رکھ لے، بصورتِ دیگر جانور لوٹا دے اور ایک صاع کھجور بھی دے۔“
(ب) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے منع فرمایا کہ ”مہاجر کسی دیہاتی کے لیے فروخت کرے۔“