السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع حاضر لباد باب: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 10902
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ " قَالَ: قُلْتُ: مَا لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ؟ قَالَ: " لَا تَكُنْ لَهُ سِمْسَارًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ وَغَيْرِهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ، عَنْ مَعْمَرٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: شہری دیہاتی کے لیے فروخت نہ کرے؟ انہوں نے فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اس کا دلال نہ بنے۔