السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع حاضر لباد باب: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 10908
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاضِي أَبُو نَصْرٍ شُعَيْبُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيُّ بِهَا، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَصْرٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَلِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مَسَانِيدُ لَمْ يُودِعْهَا الْمُوطَّأَ رَوَاهَا عَنْهُ الْأَكَابِرُ مِنْ أَصْحَابِهِ خَارِجَ الْمُوطَّأِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے (دوسری سند سے) اسی طرح ذکر کیا ہے۔
اسے عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے بھی اپنے والد سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔ امام مالک بن انس کی کچھ مسند روایات ایسی ہیں جنہیں انہوں نے مؤطا میں درج نہیں کیا، ان کے بڑے شاگردوں نے انہیں مؤطا سے باہر ان سے روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔