السنن الكبرى للبيهقي
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
باب: : لا يبيع حاضر لباد باب: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال فروخت نہ کرے“۔
حدیث نمبر: 10904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الْأَهْوَازِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَإنْ كَانَ أَخَاهُ أَوْ أَبَاهُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شہری دیہاتی کا دلال نہ بنے، اگرچہ وہ اس کا بھائی یا والد ہی کیوں نہ ہو۔“