کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ہدی (قربانی کے جانور) کے ہلاک یا گم ہو جانے کی صورت میں جن حالات میں اس کا بدل لانا لازم ہوتا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً فَضَلَّتْ، أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِذَا كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے ہدی کا جانور روانہ کیا، پھر وہ گم یا فوت ہو گیا، اگر وہ نذر کا تھا تو پھر اس کا بدل دے گا، اگر نفلی ہدی تھی تو اگر چاہے بدل دے وگرنہ چھوڑ دے۔ یہ موقوف صحیح ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بَدَلٌ، وَإنْ كَانَ نَذْرًا فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ" ⦗٤٠٠⦘ كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَظُنُّهُ وَهْمًا، فَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوْقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نفلی ہدی روانہ کی لیکن وہ ہلاک ہو گئی تو اس کے ذمہ بدل نہیں ہے۔ اگر وہ نذر کی تھی تو اس کے ذمہ بدل ہے۔“ اوزاعی سے بھی اسی سند سے نقل کیا گیا ہے، میں اس کو وہم خیال کرتا ہوں۔
دوسرے راویوں نے اسے اوزاعی سے، عبداللہ بن عامر اسلمی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور عبداللہ بن عامر کے لیے موقوف روایات کو مرفوع بنا دینا کوئی بعید بات نہیں، واللہ اعلم۔
دوسرے راویوں نے اسے اوزاعی سے، عبداللہ بن عامر اسلمی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور عبداللہ بن عامر کے لیے موقوف روایات کو مرفوع بنا دینا کوئی بعید بات نہیں، واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ح قَالَ: وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى تَطَوُّعًا ثُمَّ ضَلَّتْ فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ فِي نَذْرٍ فَلْيُبَدِّلْ " وَرَوَاهُ الْقَرْقَسَانِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَخَالَفَ الْجَمَاعَةَ فِي مَتْنِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے نفلی ہدی روانہ کی اور وہ گم ہو گئی تو اگر وہ چاہے تو اس کا بدل دے، چاہے تو چھوڑ دے۔ اگر وہ ہدی نذر کی تھی تو اس کا بدل دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، وَإِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقَرْقَسَانِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى هَدْيًا تَطَوُّعًا ثُمَّ عَطِبَ فَإِنْ شَاءَ أَكَلَ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ، وَإِنْ كَانَ نَذَرَ فَلْيُبَدِّلْ " وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الْجَمَاعَةِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ثُمَّ الصَّحِيحُ رِوَايَةُ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ وَاللهُ أَعْلَمُ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”جس نے نفلی ہدی مکہ روانہ کی، پھر وہ ہلاک ہو گئی تو اگر وہ چاہے تو کھا لے چاہے تو چھوڑ دے۔ اگر وہ ہدی نذر کی تھی تو اس کا بدل دے۔“
درست اوزاعی سے جماعت کی روایت ہے، پھر صحیح نافع سے امام مالک کی روایت ہے، واللہ اعلم۔
درست اوزاعی سے جماعت کی روایت ہے، پھر صحیح نافع سے امام مالک کی روایت ہے، واللہ اعلم۔
وَقَدْ رُوِيَ بِاللَّفْظِ الْأَوَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا إِلَّا أَنَّ إِسْنَادَهُ ضَعِيفٌ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ، ثنا الْقَاضِي الْمُحَامِلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شَبِيبٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، فَذَكَرَ فِيهِ: إِذَا ضَلَّتْ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی الزناد رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ: ”جب وہ گم ہو جائے۔“
یہ روایت پہلے الفاظ کے ساتھ ابن ابی الزناد سے، وہ موسیٰ بن عقبہ سے، وہ ابوزبیر سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
یہ روایت پہلے الفاظ کے ساتھ ابن ابی الزناد سے، وہ موسیٰ بن عقبہ سے، وہ ابوزبیر سے، وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً بھی مروی ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا جَدِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا زِيَادٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ الْبَكَّائِيَّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَاقَ هَدْيًا تَطَوُّعًا فَعَطِبَ فَلَا يَأْكُلْ مِنْهُ فَإِنَّهُ إِنْ أَكَلَ مِنْهُ كَانَ عَلَيْهِ بَدَلُهُ، وَلَكِنْ لِيَنْحَرْهَا ثُمَّ لِيَغْمِسْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ لِيَضْرِبْ بِهَا جَنْبَهَا، وَإِنْ كَانَ هَدْيًا وَاجِبًا فَلْيَأْكُلْ إِنْ شَاءَ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ قَضَائِهِ " قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ خُزَيْمَةَ: هَذَا الْحَدِيثُ مُرْسَلٌ بَيْنَ أَبِي الْخَلِيلِ، وَبَيْنَ أَبِي قَتَادَةَ رَجُلٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نفلی قربانی مکہ روانہ کی (اور) وہ ہلاک ہوگئی، لے کر جانے والا اس سے کچھ نہ کھائے، اگر اس نے اس کا گوشت کھایا تو اس پر بدل ہے، لیکن اس کو نحر کر کے (قلادے والے) جوتے اس کے خون میں رنگ کر اس کے پہلو پر مارے۔ اگر وہ ہدی واجب تھی تو اگر چاہے تو اس کا گوشت کھالے کیوں کہ اس کی قضا ضروری ہے۔“
ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، ابوخلیل اور ابوقتادہ کے درمیان ایک راوی (کا واسطہ) ہے۔
ابوبکر بن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ حدیث مرسل ہے، ابوخلیل اور ابوقتادہ کے درمیان ایک راوی (کا واسطہ) ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّهَا ضَلَّتْ لَهَا بَدَنَتَانِ فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأُخْرَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدَتْ بَعْدَ ذَلِكَ اللَّتَيْنِ ضَلَّتَا فَنَحَرَتْهُمَا ".
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہدی کے دو اونٹ گم ہو گئے، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے آپ کے لیے دو اور اونٹ بھیج دیے، تو آپ نے ان دونوں کو نحر کر دیا، اس کے بعد گم شدہ اونٹ بھی مل گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بھی نحر کر دیا۔