السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يكون عليه البدل من الهدايا إذا عطب أو ضل باب: ہدی (قربانی کے جانور) کے ہلاک یا گم ہو جانے کی صورت میں جن حالات میں اس کا بدل لانا لازم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10256
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ: " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً فَضَلَّتْ، أَوْ مَاتَتْ فَإِنَّهَا إِذَا كَانَتْ نَذْرًا أَبْدَلَهَا، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شَاءَ أَبْدَلَهَا وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهَا " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ نَافِعٍ.حافظ ثناء اللہ
نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جس نے ہدی کا جانور روانہ کیا، پھر وہ گم یا فوت ہو گیا، اگر وہ نذر کا تھا تو پھر اس کا بدل دے گا، اگر نفلی ہدی تھی تو اگر چاہے بدل دے وگرنہ چھوڑ دے۔ یہ موقوف صحیح ہے۔