السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يكون عليه البدل من الهدايا إذا عطب أو ضل باب: ہدی (قربانی کے جانور) کے ہلاک یا گم ہو جانے کی صورت میں جن حالات میں اس کا بدل لانا لازم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10262
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، " أَنَّهَا ضَلَّتْ لَهَا بَدَنَتَانِ فَأَرْسَلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ بِأُخْرَيَيْنِ فَنَحَرَتْهُمَا، ثُمَّ وَجَدَتْ بَعْدَ ذَلِكَ اللَّتَيْنِ ضَلَّتَا فَنَحَرَتْهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہدی کے دو اونٹ گم ہو گئے، آپ نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دوسرے اونٹ لینے کے لیے روانہ کیا، انہوں نے ان دونوں کو نحر کر دیا، اس کے بعد گم شدہ اونٹ بھی مل گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بھی نحر کر دیا۔