السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: ما يكون عليه البدل من الهدايا إذا عطب أو ضل باب: ہدی (قربانی کے جانور) کے ہلاک یا گم ہو جانے کی صورت میں جن حالات میں اس کا بدل لانا لازم ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 10257
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا الْمُعَافَى بْنُ عِمْرَانَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَهْدَى بَدَنَةً تَطَوُّعًا فَعَطِبَتْ فَلَيْسَ عَلَيْهِ بَدَلٌ، وَإنْ كَانَ نَذْرًا فَعَلَيْهِ الْبَدَلُ" ⦗٤٠٠⦘ كَذَا رُوِيَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَأَظُنُّهُ وَهْمًا، فَإِنَّمَا رَوَاهُ غَيْرُهُ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَامِرٍ يَلِيقُ بِهِ رَفْعُ الْمَوْقُوفَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نفلی ہدی روانہ کی لیکن وہ ہلاک ہو گئی تو اس کے ذمہ بدل نہیں ہے۔ اگر وہ نذر کی تھی تو اس کے ذمہ بدل ہے۔“ اوزاعی سے بھی اسی سند سے نقل کیا گیا ہے، میں اس کو وہم خیال کرتا ہوں۔
دوسرے راویوں نے اسے اوزاعی سے، عبداللہ بن عامر اسلمی کے واسطے سے روایت کیا ہے، اور عبداللہ بن عامر کے لیے موقوف روایات کو مرفوع بنا دینا کوئی بعید بات نہیں، واللہ اعلم۔