السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من أنكر الاشتراط في الحج باب: ان کا بیان جنہوں نے حج میں شرط لگانے کا انکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10124
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٣٦٦⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرزاق معمر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں، اس میں زائد بھی ہے: ”اگر تم میں سے کسی کو کوئی روکنے والا روک دے، جب وہ بیت اللہ جائے تو طواف کرے اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر سر منڈائے یا بال اتارے اور اس پر آئندہ سال حج ہے۔“
(ب) مصنف کہتے ہیں: اگر ابوعبدالرحمن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ عنہا والی حدیث پہنچتی تو وہ حج میں شرط کا انکار نہ کرتے جیسے ان کے والد نے انکار نہیں کیا۔