السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: حصر المرأة تحرم بغير إذن زوجها باب: اس عورت کو روکے جانے کا بیان جو اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر احرام باندھے۔
حدیث نمبر: 10126
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْرَقِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي امْرَأَةٍ لَهَا مَالٌ تَسْتَأْذِنُ زَوْجَهَا فِي الْحَجِّ فَلَا يَأْذَنُ لَهَا، قَالَ: قَالَ إِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ: قَالَ نَافِعٌ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ لَهَا أَنْ تَنْطَلِقَ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا، وَلَا يَحِلُّ لِلْمَرْأَةِ أَنْ تُسَافِرَ ثَلَاثَ لَيَالٍ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ تَحْرُمُ عَلَيْهِ " وَرَوَاهُ أَيْضًا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ.حافظ ثناء اللہ
حسان بن ابراہیم رحمہ اللہ اس عورت کے بارے میں جس کے پاس مال ہو اور وہ اپنے خاوند سے حج کی اجازت مانگے لیکن وہ اسے اجازت نہ دے، فرماتے ہیں کہ ابراہیم صائغ نے کہا: نافع نے کہا: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ سے نقل کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر چلے اور نہ ہی عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ تین راتوں کا سفر اپنے محرم کے بغیر کرے (یعنی جس کے ساتھ اس کا نکاح نہ ہو سکتا ہو)۔“