السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الحج— کتاب الحج
باب: من أنكر الاشتراط في الحج باب: ان کا بیان جنہوں نے حج میں شرط لگانے کا انکار کیا ہے۔
حدیث نمبر: 10123
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنْكِرُ الِاشْتِرَاطَ فِي الْحَجِّ وَيَقُولُ: " أَلَيْسَ حَسْبُكُمْ سُنَّةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ إِنْ حُبِسَ أَحَدُكُمْ عَنِ الْحَجِّ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى حَجَّ عَامًا قَابِلًا، وَيُهْدِيَ أَوْ يَصُومَ إِنْ لَمْ يَجِدْ " قَالَ يُونُسُ: قَالَ رَبِيعَةُ: لَا نَعْلَمُ شَرْطًا يَجُوزُ فِي إِحْرَامِهِ.حافظ ثناء اللہ
سالم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حج میں شرط کا انکار کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”کیا تمہیں رسول اللہ ﷺ کی سنت کافی نہیں ہے؟ اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر وہ ہر چیز سے حلال ہو جائے یہاں تک کہ وہ آئندہ سال حج کرے اور قربانی دے، اگر قربانی نہ ہو تو روزے رکھے۔“ یونس کہتے ہیں کہ ربیعہ رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نہیں جانتے کہ کوئی شرط احرام میں جائز ہو۔