أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنِي عَمِّي جُوَيْرِيَةُ بْنُ ⦗٢٨٤⦘ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَقُولُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ أَدْرَكَ لَيْلَةَ النَّحْرِ مِنَ الْحَاجِّ فَوَقَفَ بِجِبَالِ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، فَلْيَأْتِ الْبَيْتَ فَلْيَطُفْ بِهِ سَبْعًا وَيَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، ثُمَّ لِيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ إِنْ شَاءَ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيُهُ فَلْيَنْحَرْهُ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَوَافِهِ وَسَعْيِهِ فَلْيَحْلِقْ أَوْ يُقَصِّرْ، ثُمَّ لِيَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهِ فَإِنْ أَدْرَكَهُ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ فَلْيَحُجَّ إِنِ اسْتَطَاعَ وَلْيُهْدِ فِي حَجِّهِ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ حاجیوں میں سے جس نے قربانی کی رات کو پا لیا اور طلوع فجر سے پہلے عرفہ کے پہاڑوں میں وقوف کیا، اس نے حج کو پا لیا اور جو طلوع فجر سے پہلے وقوفِ عرفہ کو نہ پا سکا، اس کا حج رہ گیا۔ وہ بیت اللہ میں آ کر سات چکر لگائے اور صفا و مروہ کی سعی کرے، پھر سر منڈوائے یا بال کتروائے، پھر اپنے گھر واپس لوٹ جائے۔ اگر آئندہ سال حج کے ایام اس کو پا لیں اور اس میں طاقت ہو یعنی زادِ راہ ہو تو حج اور قربانی کرے، اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین دن کے روزے ایامِ حج میں رکھے اور سات روزے گھر واپس آ کر رکھ لے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُوبَكْرٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَرَجَ حَاجًّا حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْبَادِيَةِ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ أَضَلَّ رَوَاحِلَهُ، ثُمَّ إِنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمَ النَّحْرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: " اصْنَعْ كَمَا يَصْنَعُ الْمُعْتَمِرُ، ثُمَّ قَدْ حَلَلْتَ فَإِذَا أَدْرَكَكَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ فَاحْجُجْ وَأَهْدِ مَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ حج کے لیے نکلے، جب وہ مکہ کے راستے میں نازیہ مقام تک آئے تو ان کی سواری گم ہوگئی۔ پھر وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس قربانی کے دن آئے اور ان کے سامنے واقعہ ذکر کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ویسا کرو جیسے عمرہ کرنے والے کرتے ہیں، پھر آپ حلال ہو جاؤ۔ اگر آئندہ سال آپ کو حج پالے تو حج کرنا اور قربانی کرنا جو میسر ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَغَيْرُهُمَا أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُمْ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ، جَاءَ يَوْمَ النَّحْرِ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يَنْحَرُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَخْطَأْنَا، كُنَّا نَرَى أَنَّ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمُ عَرَفَةَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: " اذْهَبْ إِلَى مَكَّةَ فَطُفْ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ أَنْتَ وَمَنْ مَعَكَ، ثُمَّ انْحَرْ هَدْيًا إِنْ كَانَ مَعَكَ، ثُمَّ احْلِقُوا أَوْ قَصِّرُوا وَارْجِعُوا فَإِذَا كَانَ حَجُّ قَابِلٍ فَحُجُّوا وَأَهْدُوا فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہبار بن اسود رضی اللہ عنہ قربانی کے دن آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قربانی کر رہے تھے، کہنے لگے: اے امیر المومنین! ہم سے غلطی ہو گئی، ہم تو آج عرفہ کا دن خیال کر رہے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مکہ جاؤ اور بیت اللہ کے سات چکر کاٹ کر طواف کرو، صفا و مروہ کی سعی کرو، پھر قربانی کرو اگر قربانی موجود ہے، پھر سر منڈواؤ یا بال کٹاؤ اور واپس پلٹ جاؤ، جب آئندہ سال حج ہو تو حج اور قربانی کرو اور اگر قربانی نہ ہو تو تین دن کے روزے حج کے ایام میں اور سات روزے واپس لوٹ کر رکھو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: ⦗٢٨٥⦘ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ رَجُلٍ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " ثُمَّ خَرَجْتُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " كَذَا رَوَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْهُ وَرُوِيَ عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ عَنْهُ، فَقَالَ: وَيُهَرِيقُ دَمًا، وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِهِ وَقَالَ: " يُهِلُّ بِعُمْرَةٍ وَيَحُجُّ مِنْ قَابِلٍ وَلَيْسَ عَلَيْهِ هَدْيٌ "، قَالَ: فَلَقِيتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ بَعْدَ عِشْرِينَ سَنَةً، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ سُفْيَانُ عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابراہیم رحمہ اللہ، حضرت اسود رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے آدمی کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا جس کا حج رہ گیا تھا، وہ فرمانے لگے کہ وہ عمرہ کا تلبیہ کہے اور آئندہ سال اس پر حج ہے۔ پھر آئندہ سال میں نکلا تو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ جس شخص کا حج رہ جائے؟ وہ فرمانے لگے کہ وہ عمرہ کا احرام باندھے اور آئندہ سال حج کرے۔
(ب) اعمش رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ سے حلال ہو گا اور آئندہ سال حج کرے گا، اس پر قربانی نہیں ہے۔
(ج) ادریس اودی رحمہ اللہ ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرے۔
(ب) اعمش رحمہ اللہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ عمرہ سے حلال ہو گا اور آئندہ سال حج کرے گا، اس پر قربانی نہیں ہے۔
(ج) ادریس اودی رحمہ اللہ ان سے روایت کرتے ہیں کہ وہ قربانی کرے۔
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، قَالَ عُمَرُ: " اجْعَلْهَا عُمْرَةً، وَعَلَيْكَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ "، قَالَ الْأَسْوَدُ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً ثُمَّ سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم نخعی حضرت اسود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، جس کا حج رہ گیا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کو عمرہ بنا لو اور آئندہ سال آپ کے اوپر حج ہے۔ اسود کہتے ہیں: میں ۲۰ سال تک ٹھہرا رہا، پھر میں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح فرمایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ فِي وَسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَقَدْ فَاتَهُ الْحَجُّ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " طُفْ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ وَعَلَيْكَ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ هَدْيًا، هَذِهِ الرِّوَايَةُ وَمَا قَبْلَهَا عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُتَّصِلَتَانِ، رِوَايَةُ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْهُ مُنْقَطِعَةٌ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: الْحَدِيثُ الْمُتَّصِلُ عَنْ عُمَرَ يُوَافِقُ حَدِيثَنَا عَنْ عُمَرَ وَيَزِيدُ حَدِيثُنَا " عَلَيْهِ الْهَدْيُ " وَالَّذِي يَزِيدُ فِي الْحَدِيثِ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الَّذِي لَمْ يَأْتِ بِالزِّيَادَةِ، وَرَوَيْنَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ كَمَا قُلْنَا مُتَّصِلًا وَفِي رِوَايَةِ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ إِنْ صَحَّتْ " وَيُهَرِيقُ دَمًا " وَهِيَ تَشْهَدُ لِرِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ بِالصِّحَّةِ، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ، عَنْ هَبَّارِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ فَاتَهُ الْحَجُّ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا، وَرُوِّينَا فِي قِصَّةِ حُزَابَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ مَا دَلَّ عَلَى وُجُوبِ الْهَدْيِ، ⦗٢٨٦⦘ وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ نَسِيَ شَيْئًا مِنْ نُسُكِهِ أَوْ تَرَكَهُ فَلْيُهْرِقْ دَمًا ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک آدمی ایامِ تشریق کے درمیان میں آیا جس کا حج رہ گیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرو اور آئندہ سال آپ پر حج ہوگا، لیکن انہوں نے قربانی کا تذکرہ نہیں کیا۔
(ب) ادریس اودی کی روایت میں ہے، اگر وہ روایت صحیح ہے تو پھر وہ قربانی کرے اور یہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
(ج) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سیدنا ہبار بن اسود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا حج رہ گیا۔ وہ اسے موصول ذکر کرتے ہیں۔
(د) حزابہ کا قصہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ قربانی کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو مناسکِ حج میں سے کوئی چیز بھول جائے یا چھوڑ دے تو وہ قربانی دے۔
(ب) ادریس اودی کی روایت میں ہے، اگر وہ روایت صحیح ہے تو پھر وہ قربانی کرے اور یہ سلیمان بن یسار رحمہ اللہ کی روایت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
(ج) سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سیدنا ہبار بن اسود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا حج رہ گیا۔ وہ اسے موصول ذکر کرتے ہیں۔
(د) حزابہ کا قصہ جو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ قربانی کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
(ر) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو مناسکِ حج میں سے کوئی چیز بھول جائے یا چھوڑ دے تو وہ قربانی دے۔