کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: یومِ عرفہ (کے تعین) میں لوگوں سے غلطی ہو جانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ الْبَشِيرِيُّ مِنْ أَوْلَادِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ الْهَرَوِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ، وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ، كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ جَمْعٍ مَوْقِفٌ، وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ، وَكُلُّ فِجَاجِ مَكَّةَ مَنْحَرٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَوْقُوفًا. وَرُوِيَ بَعْضُهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا. وَرُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے مرفوعاً نقل فرماتے ہیں کہ: ”تمہاری عید الفطر کا دن وہ ہے جس دن تم افطار کرتے ہو اور تمہاری عید الاضحی کا دن وہ ہے جس دن تم قربانی کرتے ہو اور تمام عرفہ کا میدان وقوف کی جگہ ہے اور تمام مزدلفہ کا میدان بھی وقوف کی جگہ ہے اور منیٰ کا پورا میدان قربانی کی جگہ ہے اور مکہ کے تمام راستے قربانی کی جگہ ہیں۔“
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَرَفَةُ يَوْمَ يُعَرِّفُ الْإِمَامُ، وَالْأَضْحَى يَوْمَ يُضَحِّي الْإِمَامُ، وَالْفِطْرُ يَوْمَ يُفْطِرُ الْإِمَامُ " مُحَمَّدٌ هَذَا يُعْرَفُ بِالْفَارِسِيِّ وَهُوَ كُوفِيٌّ قَاضِي فَارِسَ تَفَرَّدَ بِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عرفہ کا دن وہ ہے جب امام وقوفِ عرفہ کرتا ہے، اور عید الاضحی کا دن جس دن امام قربانی کرتا ہے، اور عید الفطر جس دن امام افطار کرے۔“
یہ محمد، فارسی کے نام سے معروف ہیں، کوفی ہیں اور فارس کے قاضی تھے، سفیان سے اس روایت کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہیں۔
یہ محمد، فارسی کے نام سے معروف ہیں، کوفی ہیں اور فارس کے قاضی تھے، سفیان سے اس روایت کو بیان کرنے میں یہ منفرد ہیں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الْعَوَّامِّ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مَطَرٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ خَالِدِ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَوْمُ عَرَفَةَ الْيَوْمُ الَّذِي يُعَرِّفُ النَّاسُ فِيهِ " هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز بن عبداللہ بن خالد بن اسید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عرفہ کا دن وہ ہوتا ہے جب لوگ عرفہ میں قیام کرتے ہیں۔“
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔
یہ عمدہ مرسل روایت ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: رَجُلٌ حَجَّ أَوَّلَ مَا حَجَّ، فَأَخْطَأَ النَّاسَ بِيَوْمِ النَّحْرِ أَيُجْزِئُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ أَيْ لَعَمْرِي إِنَّهَا لَتُجْزِيءُ عَنْهُ، ⦗٢٨٧⦘ قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِطْرُكُمْ يَوْمَ تُفْطِرُونَ وَأَضْحَاكُمْ يَوْمَ تُضَحُّونَ " - وَأُرَاهُ قَالَ -: " وَعَرَفَةُ يَوْمَ تُعَرِّفُونَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عطا رحمہ اللہ سے کہا: ایک شخص نے پہلی مرتبہ حج کیا، پھر لوگوں سے «يَوْمَ النَّحْرِ» یعنی قربانی کے دن (کی تعیین) میں غلطی ہو گئی، کیا یہ اس سے کفایت کر جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، میری عمر کی قسم! اس سے کفایت کر جائے گا۔ میرا گمان ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری عید الفطر کا دن وہ ہے جس دن تم افطار کرو اور تمہاری عید الاضحی کا دن جب تم قربانی کرو۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور عرفہ کا وہ دن ہے جب لوگ قیام کریں۔“